انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 369
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۶۹ سورة البقرة کرتے ہیں۔خصوصاً جہاں نئے احمدی ہوں اور تعداد میں بھی تھوڑے ہوں وہاں اس قسم کا سلوک اکثر کیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں پر خدا کے لئے دنیا کی تمام راہیں اگر بند ہو جائیں تو قرآنی محاورہ کے مطابق وہ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللہ کے گروہ میں شامل ہوتے ہیں۔b (خطبات ناصر جلد اول صفحه ۴۴۵،۴۴۴) آیت ۲۸۷ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا ج وقفة وقفة بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرُ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (TAV لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں ہر دو پہلو بیان ہوئے ہیں۔ایک یہ کہ اللہ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔یہاں طاقت سے مراد دائرہ استعداد ہی ہے جس پر میں متعدد بار روشنی ڈال چکا ہوں۔پس کسی کا جتنا دائرۂ استعداد یا دائرہ صلاحیت یا دائرہ قوت و طاقت ہو، اس سے زیادہ بوجھ فرد، گروه یا نوع پر نہیں ڈالا گیا۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ دائرہ استعداد میں جتنی بھی طاقت تھی ، اس پر پوراسو فیصد بوجھ ڈال دیا گیا اور انسان کو اس کا مکلف بنا دیا گیا۔اللہ اس سے کم پر راضی نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کا مطالبہ کرتا ہے اور جو طاقت سے باہر ہے وہ اس کا بھی مطالبہ نہیں کرتا۔وہ اپنے کسی بندے پر اس وجہ سے بھی خوش نہیں ہو گا کہ اس نے اپنے بھائیوں سے طاقت سے زیادہ مطالبہ کیا لیکن طاقت اور اس دائرہ کے اندر ذمہ داریوں کا جو زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈالا جاسکتا ہے، وہ ڈالتا ہے چونکہ قوت وطاقت کی نشو نما ہوتی رہتی ہے اس لئے افراد کے بوجھ اور ان کی ذمہ داریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ تیری وحی سے منہ پھیر لیتے ہیں وہ بھی دو قسم کے ہیں۔ایک تو مقر اور ایک وہ جو ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو جان بوجھ کر یا غفلت کے نتیجے میں نباہنے کی کوشش نہیں کرتے اور ان کا حال یہ ہے واعظی قلِيلا و اندی (النجم : ۵۴) کہ تھوڑا سا