انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 363 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 363

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۶۳ سورة البقرة یہودیوں نے لے لئے تھے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ابن جریر یہ کہتے ہیں بہت سی روایات جمع کی ہیں اور یہ ان کا آپس میں پھر جھگڑا ہو گیا نا۔جواصل ماں باپ تھے وہ کہتے تھے کہ پہلے اسلام تھا ہی نہیں۔ہم نے یہودی مذہب کو اپنے سے بہتر سمجھا اور نذر مانی۔اب یہودی مذہب سے زیادہ اچھا ایک کامل اور مکمل مذہب ہمیں مل گیا ہے اسلام کی شکل میں اب تمہارے پاس کیوں رہنے دیں اپنی اولاد کو۔یہ اختلاف ان میں پیدا ہو گیا اور اس اختلاف کا فیصلہ کیا۔یعنی اس آیت کے نزول کی وجہ جو ہے وہ یہ بیان کرتی ہیں روایات۔اور سعید بن جبیر کی روایت میں ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے اترنے پر فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے لوگوں کو اختیار دیا ہے اگر وہ چاہیں وہ بچے جو یہودی لے چکے تھے یا عیسائی خاندان لے چکے تھے اگر وہ چاہیں تو تمہیں ترجیح دیں اور تم میں داخل ہو جائیں۔اگر وہ چاہیں تو وہ ان کو ترجیح دیں اور ان میں داخل رہیں۔اس کے بعد وہ اپنی تفسیر جو انہوں نے کی وہ کہتے ہیں۔" میں کہتا ہوں کہ یہ حکم۔بڑا ان کے دماغ نے یہاں کام کیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ یہ حکم اس دین کا ہے جس کے متعلق اس کے دشمن“، اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے کو اس دین کا دوست خیال کرتے ہیں۔میں کہتا ہوں۔میں پڑھتا ہوں دوبارہ۔میں کہتا ہوں کہ یہ حکم ہے اس دین کا جس کے متعلق اس کے دشمن اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ طاقت اور تلوار کے ساتھ کھڑا ہوا اور وہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا (طاقت کے بل ہوتے ) اس حال میں کہ طاقت اور وہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا اس حال میں کہ طاقت اس کے دائیں ہوتی اور جو اسے قبول کرتا وہ نجات پا جاتا اور جو اسے قبول نہ کرتا تو تلوار اس کا فیصلہ کر دیتی“۔کہتے ہیں یہ اُس مذہب نے فیصلہ دیا ہے جس کی روایتیں ہیں۔”ہم پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تلوار اس وقت بھی کام کر رہی تھی جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ چھپ کر نماز ادا کیا کرتے اور جب کہ اسلام لانے پر مسلمان کو قسم قسم کے عذاب دیئے جاتے اور کوئی نہ تھا جو ظالموں کو ظلم سے رو کے حتی کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ہجرت پر مجبور ہو گئے۔یا کیا وہ کہتے ہیں کہ جبر و اکراہ مدینہ میں استعمال کیا گیا بعد اس کے کہ اسلام سر بلند اور غالب ہو چکا تھا اور یہ آیت تو اس غلبہ کے ابتدائی دور میں نازل ہو چکی تھی۔آیت کا نزولِ زمانہ جو ہے وہ امام بخاری کے نزدیک ۳ھ میں غزوہ احد ہے اور یہ اس سے پہلے آیت نازل ہو چکی تھی۔تو بالکل ابتدائی زمانہ میں تھی اس