انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 353

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۵۳ سورة البقرة ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس جگہ کسی آیت کا حوالہ نہیں دیا۔ابھی میں نے جو کہا تھا نا کہ کسی آیت کا حوالہ آپ دیں کہ وہ ہے کسی نہ کسی آیت کی تفسیر۔پہلے میرے دماغ میں یہ بات نہیں تھی تب آپ سے باتیں کرتے ہوئے یہ آیت آگئی سامنے، وہی مثال اس کی کہ وَلا يُحيطون بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاء۔اس کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے وہ لکھا ہے کہ کوئی دہریہ، کوئی کمیونسٹ، کوئی بت پرست کوئی بد مذہب علم کے میدان میں ترقی کرتے ہوئے جب ترقی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق ترقی کرتا ہے اس کی منشا کے بغیر ترقی نہیں کرتا اور انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سوا اُس کے علم کے کسی حصہ کو بھی پا نہیں سکتا۔اور اس سے اگلا ٹکڑا آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی حاوی ہے۔کائنات کا اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے وہ اس کا پیدا کرنے والا ہے اس کے اندر جو کچھ بھی خواص پائے جاتے ہیں، جو کچھ خواص میں کمی ہوتی ہے، جو بڑھوتی ہوتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اس کے امر سے یا اس کے خلق سے وہ چیز ہورہی ہے۔وہ اس سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں۔وہ انسانوں کی طرح نہیں کہ آج یاد کر لیا یاسن لیا اور کل کو بھول گیا خدا نہ کرے آپ میں سے بعض بھول ہی جائیں کہ میں آپ کو کیا نصیحت یہاں کر کے گیا ہوں کہ قرآن کریم کا علم حاصل کرتے رہنا ہے اسے بھولنا نہیں۔درووو (خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۶۸ ۵ تا ۵۷۰ ) پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مخلوق کے ساتھ شدید تعلق رکھنے کے باوجود یعنی ہر ایک جان کی جان، ہر ہستی کا سہارا اور ہر بستی کو قائم رکھنے کے باوجود وہ الگ ہے۔وہ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔اَلْحَيُّ کے معنے نیست سے ہست کرنے اور القیوم کے معنی اس کو قائم رکھنے والی ہستی کے ہوتے ہیں۔وہ الحی ہے انسان کو زندگی دیتا ہے۔وہ القیوم ہے اس کی زندگی کو قائم رکھتا ہے اور اس میں ایک پہلو تو اللہ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا اس کی مخلوق سے۔القیوم کی رو سے وہ سہارا بنتا ہے ہر ایک چیز کا ، تب وہ قائم رہتی ہے لیکن اس تعلق کے باوجود وہ کیس كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری:۱۲) بھی ہے اور اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف: ۵۵) بھی ہے۔وہ سب سے برتر اور تمام مخلوق سے وراء الوراء بھی ہے اور تقدس کے مقام پر جلوہ گر ہے اور اس طرح الگ کا الگ بھی رہا، وہ انسان کے ساتھ مل بھی گیا۔اس نے انسان کے ساتھ تعلق بھی قائم کیا۔انسان نے اس کے پیار کی باتیں بھی سنیں۔انسان نے اس کی