انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 351

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث وو ۳۵۱ سورة البقرة اَحَدٍ مِنْ رُسُلِے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسولوں میں سے ایک رسول کہا گیا ہے۔یہ وہ مقام ہے جو سورہ احزاب کی آیہ کریمہ میں ولکن رَّسُولَ اللہ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے جس کے بعد آپ کو خاتم النبین قرار دیا گیا ہے یعنی آپ رسول ہیں مگر ایسے رسول کہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں اور اس لحاظ سے آپ تمام رسولوں سے منفرد ہیں۔غرض ایک طرف فرما یا رسول رسول میں فرق نہیں کیا جا سکتا باوجود فضیلت کے فرق نہیں کیا جا سکتا۔آخر فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ کی آیت کو لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِنْ رُسُلِہ کی آیت یا آیت کے ٹکڑے نے منسوخ تو نہیں کر دیا کیونکہ قرآن کریم کی کوئی آیت کوئی فقرہ کوئی لفظ کوئی شعشہ کوئی زیر اور کوئی زبر منسوخ نہیں ہوتی اور نہ کبھی ہوئی ہے۔پس فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ اپنی جگہ پر صیح اور لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ اپنی جگہ پر درست ہے۔لفظ رسالت میں کوئی فرق نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسول بھی ہیں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔رسالت کے اعتبار سے آپ میں اور آدم میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا لیکن آپ محض ایک رسول ہی نہیں بلکہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں۔خاتم النبیین کے ارفع مقام کے لحاظ سے کسی اور نبی کو یہ حجرات نہ ہوسکتی کہ وہ اس ارفع و اعلیٰ مقام کا دعویدار بنے۔اس میں آپ منفرد ہیں۔آپ کا مقام خدائے ذوالجلال کے داہنی جانب عرش رب کریم پر ہے۔جسے ہم مقام محمدیت کہتے ہیں۔اس معنی میں حقیقتا آپ ایک عظیم الشان آخری نبی ہیں اور ہم علی وجہ البصیرت آپ کے آخری نبی ہونے پر ایمان لاتے ہیں وہ آخری مقام جو آپ کو معراج میں دکھایا گیا اور آپ نے اس کی جو تصویر کھینچی ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ہم تو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ قرآن کریم یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے عظیم رویا اور کشوف اور عظیم روحانی تجربات سے انکار کریں۔اس معنی میں آپ تمام انبیاء پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور یہی معنی آپ پر چسپاں ہوتے ہیں۔لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ اپنی جگہ درست مگر مقام محمدیت مقام ختم نبوت جس کا سورہ احزاب میں ذکر ہے۔اس مقام محمدیت میں منفرد ہونے کے لحاظ سے آپ آخری نبی ہیں اور خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہیں۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ ۷۹ تا ۸۶)