انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 350 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 350

۳۵۰ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور اس کے بھی اوپر مقام محمدیت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے ذوالعرش کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں، یہ شرف آپ کے مقام کے لحاظ سے اور اس محبت کی وجہ سے ہے جو آپ کو اپنے خدا سے تھی اور اس پیار کی وجہ سے جس سے آپ کو نوازا گیا تھا۔یہ ہے وہ مقام ختم نبوت جو خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا۔اب اہل زمین جب اس تصویر میں زمین سے آسمانوں کی طرف دیکھیں گے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک ایک نبی ( اور ایک آسمان پر دونبیوں) کا ذکر آیا ہے وہ محض نبیوں کے گروہ کی علامت کے طور پر ہے کیونکہ اگر واقع میں ایک لاکھ بیس ہزار پیغمبر دنیا کی طرف آئے تو پھر تو پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بہت سے اور انبیاء بھی ہوں گے۔اسی طرح دوسرے حتی کہ ساتویں آسمان پر بھی بہت سارے انبیاء ہوں گے۔تاہم ساتویں آسمان تک پہنچ کر یہ سارے انبیاء ختم ہو جائیں گے۔اس کے بعد صرف ایک وجود ہو گا۔وہ اپنے رب سے اتنا پیوست اور ایک جان ہوگا کہ اس کا آنا خدا کا آنا اور اس کا کلام کرنا خدا کا کلام کرنا اور اس کی حرکات خدا کی حرکات متصور ہوں گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا جنگ بدر کے موقع پر کنکریوں کی جو ٹھی پھینکی گئی تھی وہ دعاؤں کے نتیجہ میں نہیں بلکہ آپ کے اس قرب الہی کے نتیجہ میں تھی اور آپ کے صفات باری کے مظہر اتم ہونے کی وجہ سے تھی۔یہ آپ کے بلند مقام کا کرشمہ تھا کہ وہ کفار کی آنکھوں میں پڑی اور اُن کی تباہی کا باعث بن گئی سرداران مکہ میدان جنگ میں اپنی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے یہ ایک مستقل اور لمبا مضمون ہے۔اس وقت اس کے بیان کا موقع نہیں۔میں بتایہ رہا ہوں کہ یہ مقام یعنی عرش رب کریم پر مقام محمدیت یا مقام ختم المرسلین یا مقام خاتم النبین اس تصویر میں اور حقیقتاً بھی اتنا اعلیٰ اور ارفع مقام ہے کہ وہاں تک کوئی اور انسان پہنچ ہی نہیں سکتا۔یہی وہ مقام اور صاحب مقام ہے جس کی خاطر اس ساری کائنات کو پیدا کیا گیا ہے۔حدیث قدی لولاك لَمَا خَلَقْتُ الأفلاك ( موضوعات کبیر صفحہ ۵۹) اسی حقیقت کی مظہر ہے اور اسی لئے یہ وہ مقام ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت بھی ملا ہو ا تھا جب آدم ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی خاتم النبین تھے جب کہ آدم کا وجود مٹی میں کروٹیں لے رہا تھا۔یہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے۔یہی تو آپ کا آخری مقام ہے۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ