انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 345

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۵ سورة البقرة اور شریعت کے احکام کی روشنی میں اپنے نفس کو قابو میں رکھنا یہ ہے صبر اور مختلف شکلوں میں یہ ہماری زندگی میں ابھرتا ہے۔مثلاً اگر کوئی مصیبت نازل ہو جائے تو اس پر بھی صبر کرتا ہے انسان میدانِ جنگ ہو تو مومنانہ شجاعت کے مظاہرے کو عربی زبان اور قرآنی اصطلاح صبر کہتی ہے۔میدان جنگ میں اور ثبات قدم۔اگر قضا و قدر کے امتحان و ابتلا میں مبتلا ہو کوئی شخص جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تمہیں آزماؤں گا۔تو ایسے امتحان کے وقت بشاشت قلب سے اس ابتلاء کو برداشت کرنا یہ بھی صبر ہے اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنا یہ بھی صبر ہے۔بے موقع اور بے محل بات سے رکے رہنا۔زبان کو قابو میں رکھنا اس کو بھی صبر کہتے ہیں۔یعنی ہر پہلو سے جہاں نفس کو قابو میں رکھنا ہو عقل کے قانون کے ماتحت یا شریعت کے احکام کے نتیجہ میں۔عربی زبان اور قرآن کریم کی اصطلاح اسے صبر کہتی ہے۔تو رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبُرا میں یہ دعا ہوئی کہ اے خدا!! ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے نفس کو اس طرح قابو میں رکھیں کہ کبھی بھی وہ بے قابو ہو کر تیری ناراضگی مول لینے والا نہ بن جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔( خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۳۰۴) آیت ۲۵۴ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُم مَّنْ كَلَمَ اللهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَ ايَّد لهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنْتُ وَلكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّنْ كَفَرَ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ قف rom اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن عظیم میں نبوت اور رسالت کے متعلق بہت سی بنیادی باتیں بتائی ہیں۔میں اس وقت اُن میں سے بعض کا ذکر کروں گا۔پہلی بات ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ انبیاء اور مرسلین میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشی گئی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بعض اس کے علاوہ بھی انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر آتا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کی