انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 344

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۴ سورة البقرة دو بالفاظ دیگر یہ فرمایا کہ ان تَنْصُرُوا اللہ اگر تم صبر سے کام لو گے ینصرکم تو وہ تمہاری مدد کو آئے گا اور اُس کی مدد کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں نیکیوں پر دوام حاصل ہو جائے گا۔تمہیں مصائب کے برداشت کرنے کی اور دکھوں اور سازشوں اور دشمن کے مکر کے برداشت کرنے کی اور زبان کو قابو میں رکھنے کی دائمی قوت عطا ہو جائے گی ، ثبات قدم عطا ہوگا یعنی یہ نہیں کہ ایک سال تو نہیں طاقت ملی اور اگلے سال پھر تم جہنم میں چلے جاؤ بلکہ جب تم اللہ کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے تو تمہارا ثبات قدم تمہیں اس جنت سے پھر نکلنے نہیں دے گا کیونکہ وقت جو بھی تقاضا کرے گا تم اس کو پورا کرنے والے ہو گے۔آج کا دن اسلام کے غلبہ کے لئے جو تقاضا کرتا ہے ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس کو پورا کرے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر صبر سے کام لو گے تو تمہیں ثبات قدم عطا ہوگا۔پھر تم نیکیوں پر ایک دوام پاؤ گے اور رضائے الہی کے حصول کے بعد تمہیں اس کی ناراضگی کبھی نہیں ملے گی۔پھر فرمایا : وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اسلام کا جو منکر اور مخالف ہے وہ اسلام کو کمزور کرنے کیلئے جو بھی تدبیر کرے اس کے خلاف ہماری مدد کر۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں مرد تو کرتا ہوں لیکن میں مددان لوگوں کی کرتا ہوں جو میرے احکام کو مانتے اور میری خاطر اور میرے حضور ہر قسم کی مطلوبہ قربانیوں کو پیش کرتے ہیں اور تم اس کی توفیق بھی مجھ سے ہی پاسکتے ہو اس لئے تم دعا کرتے رہا کرو۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتُ أَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ پس میں آج اس دعا کے کرنے کی تحریک کر رہا ہوں۔اس دعا کے جو وسیع معانی ہیں میں نے ان کو ایک حد تک بیان کر دیا ہے۔ان معانی کو ذہن میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جس حد تک ممکن ہو یہ دعا کریں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ دن میں کم از کم ۳۳ بار یہ دعا کیا کریں۔اس پر زیادہ وقت نہیں لگے گا اور یہ کام زیادہ قربانی نہیں چاہتا لیکن اگر آپ ان معانی کو ذہن میں رکھ کر یہ دعا کریں تو یہ بات بڑی برکتوں کا موجب ہوگی۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۰۵ تا ۵۱۵) أفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ شَيْتُ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اے ہمارے رب ہم پر قوت برداشت نازل کر صبر عطا کر اور ہمیں ثبات قدم عطا کر اور منکر مخالف کے خلاف ہماری مدد کر۔صبر کے معنی عربی زبان اور قرآنی محاورہ میں بڑے وسیع ہیں۔صبر کے معنی ہیں عقلی قوانین