انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 29
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۹ سورة الفاتحة اور اس کی نشوونما کے لئے جن اسباب مادیہ کی ضرورت تھی وہ اسباب مادیہ پیدا کئے۔اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے ہم پر ظاہر ہوئے۔ہمارے لئے وہ جلوے اس وقت بھی ظاہر ہوئے کہ ابھی زمانہ کروڑوں سال بعد ہماری پیدائش کا منتظر تھا مگر خدائے علام الغیوب کو چونکہ ہمارا پتہ تھا کہ اس طرح ہم اس کی مشیت سے پیدا ہونے والے ہیں اس لئے کروڑوں اربوں سال پہلے جن چیزوں کی ہمیں اس وقت پیدائش کے بعد ضرورت تھی اور جن کی پیدائش پر کروڑوں اربوں سال گزر جانے تھے وہ کروڑوں اربوں سال پہلے پیدا کر دیں۔رحمانیت کے جلوؤں میں بڑا ہی حسن و احسان ہمیں نظر آتا ہے۔ہر چیز جو ہمیں ملی یہ زمین اور اس کا جو فاصلہ سورج اور چاند سے ہے پیدا کی اور پھر زمین میں یہ قابلیت رکھی کہ وہ پانی کے بعد اس قسم کی غذا پیدا کرتی ہے کہ جو ہمارے جسم کو متوازن غذائیت (Nutrition) دے سکے۔متوازن غذا دے سکے اگر زمین میں مثلاً تیز اب جو ہماری غذا کا ایک حصہ ہے اتنا ہوتا جتنا اس وقت اس میں سٹارچ (Starch) یعنی نشاستہ ہے تو یہ غذا ہم کھا کر زندہ نہ رہ سکتے۔غرض ہمارے جسموں کو جس متوازن طبیب غذا کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں وہ خصوصیات پیدا کیں کہ وہ ایک خادم کی حیثیت سے اس متوازن غذا کے ہمارے لئے سامان کرے۔پھر رحیمیت ہے رحیمیت کے معنی ہیں کہ متضرعانہ دعاؤں اور اعمالِ صالحہ کو قبول کرتے ہوئے ان کا اچھا اور نیک بدلہ ہمیں دیتا ہے۔ہماری متضرعانہ دعاؤں اور اعمال صالحہ میں بہت سے نقائص رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرتا ہے اور جو نقص رہ جاتا ہے اس کو دُور کر دیتا ہے تا عملِ صالح ضائع نہ ہو۔غرض رحیمیت کے معنی میں پردہ پوشی کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور رحیمیت کے معنی میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ عمل صالح کا نیک نتیجہ جس صورت میں نکل سکتا تھا عمل وہاں تک نہیں پہنچا اس میں کچھ نقص رہ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اس نقص کو دور کرتی ہے اور اس طرح چشم پوشی سے کام لے کر عمل صالح کا وہ نتیجہ نکال دیتی ہے جو اس کا بہتر نتیجہ (شمره حسنہ) نکلنا چاہئے تھا۔غرض چشم پوشی کرنا اور نقص کو دور کرنا تا تفضیح اعمال نہ ہو۔اعمال صالح ضائع نہ ہو جائیں۔رحیمیت کا کام ہے۔انسان اپنی انتہائی کوشش اور اپنی نہایت عاجزانہ دعاؤں کے باوجود اس بات پر یقین نہیں کر سکتا اس بات پر تسلی نہیں پاسکتا کہ اس کے اعمال میں کوئی نقص نہیں