انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 334
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۴ سورة البقرة سے (باپ ہونے کی حیثیت سے، ماں ہونے کی حیثیت سے، ماسٹر ہونے کی حیثیت سے یا پرنسپل ہونے کی حیثیت سے، اپنی جماعت کے صدر یا سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے یا دوسری ہزار حیثیتوں میں ) انسان کو طاقت اور غلبہ ملتا ہے صرف کسی ملک یا قوم کی بادشاہت کی حیثیت سے ہی نہیں۔انسان یہ کہتا ہے کہ یہ طاقت اور غلبہ تو دراصل خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔وہی ہر چیز کا مالک ہے اس نے مجھے طاقت اور غلبہ میں جس کا وہ منبع اور سر چشمہ اور حقیقی مالک ہے اس لئے شامل کیا ہے کہ میں اس کی مخلوق کی بھلائی کے کام کروں۔ایسا انسان ظلم کر ہی نہیں سکتا۔لا خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۸۵ تا ۵۸۷) آیت ۲۵۰ فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنَى وَمَنْ لَمْ يَطْعَمَهُ فَإِنَّهُ مِنّى إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةٌ بِيَدِهِ فَشَرِ بُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا جَاوَزَةً هُوَ وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً لا لا بإِذْنِ اللهِ وَاللهُ مَعَ الصُّبِرِينَ۔۲۵۰ اب میں اس واقعہ کو لیتا ہوں جو گزشتہ ستمبر میں ہماری قوم اور ہمارے ملک پر گزرا۔۶ ستمبر کو ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے نہایت ظالمانہ طور پر اور فریب سے کام لیتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا۔سترہ دن تک یہ جنگ لڑی گئی۔یہ جنگ عام معمولی جنگوں کی طرح نہیں تھی بلکہ اس میں ہمیں بعض ایسی باتیں نظر آتی ہیں جو اسے ایک خاص قسم کی جنگ بنا دیتی ہیں کیونکہ دوران جنگ پاکستانی قوم پر اللہ تعالیٰ کے مختلف اقسام کے افضال اور برکتیں نازل ہوتی نظر آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کارخیر کنند دعویٰ حُبّ پیمبرم ( در ثمین فارسی صفحه ۱۰۷)