انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 28 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 28

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۸ سورة الفاتحة سے چار اُمہات الصفات کہلاتی ہیں۔یعنی اس کا رب ہونا ، اس کارحمٰن ہونا، اس کا رحیم ہونا اور اس كا مالك يوم الدين ہونا۔اگر ہم ان چار صفات کو پوری طرح سمجھنے لگیں ، اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے اور اس حقیقت کا اظہار ہم پر ہو جائے کہ رب کے کیا معنی ہیں۔رحمن کی صفت کے جلوے کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔رحیمیت اپنا ظہور کس طرح کرتی ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ اپنے قادرانہ تصرف کو دنیا کے سامنے کس طرح پیش کرتا ہے تو دوسری صفات کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔اس لئے سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ان چار امہات الصفات کو بیان کیا اور ان کی طرف توجہ دلائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس منشاء کے مطابق ہم پر بڑا زور دیا کہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرو اور ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کا حکم اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کریں کیونکہ اگر ہم ان اُمہات الصفات کو جو تعداد میں چار ہیں خود نہ سمجھیں اور ہماری عقل میں ان کی کیفیت اور ان کی ماہیت ( جس حد تک ہماری سمجھ ہے ) نہ آئے تو ہم اس کے مطابق اپنی زندگی میں وہ صفات کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کیلئے ان صفات کی معرفت کا حصول ضروری ہے ورنہ ہم اپنی زندگیوں میں ان صفات کے پیدا کرنے کی نتیجہ خیز اور ثمر آور کوشش نہیں کر سکتے۔رب العلمین کے معنی بڑے وسیع ہیں اس وقت میں اس صفت کے متعلق صرف ایک اصولی بات بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ بات یہ ہے کہ رب العلمین کے معنی ہیں پیدا کرنے کے بعد تکمیل کا متکفل ہو جانا یعنی جو فطری مطلوب تھا اس کو پورا کرنا۔اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو کسی خاص غرض کے لئے پیدا کیا ہے۔انسان کو جس غرض کے لئے اس نے پیدا کیا ہے اور اس غرض کے حصول کے لئے اس کو جن قومی کے ساتھ پیدا کیا ہے ان قومی کے تدریجی ارتقاء کے بعد ان کو کمال تک پہنچانے کی ذمہ داری اس نے اپنے اوپر لی ہے۔اس معنی میں وہ رب العالمین ہے۔ذمہ داری اس معنی میں اس نے اپنے پر لی ہے کہ اس نے فرمایا کہ میں رحمن ہوں تمہاری تکمیل کے لئے اور جس غرض کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس کے حصول کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ میں تمہیں دوں گا۔انسان کو اللہ کا بندہ بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور حقیقی معنی میں ایک عبد ہونے کے لئے جس جسمانی قوت یا روحانی طاقت و استعداد کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے وہ طاقت اسے دی