انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 27
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۲۷ سورة الفاتحة اور یہ صفت جو ہے یہ فیض کا ثمرہ بخشتی ہے یعنی وہ مل جاتی ہے۔جنت مل جاتی ہے مالکیت یوم الدین کے نتیجے میں اور اس کے لئے انسان کو ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھنا نہیں بلکہ شروع کرنا ہے اپنے جسم کو مضبوط کرنا خاص مقاصد کے لئے یعنی کھیلنا، کھانے کو ہضم کرنا، جسم میں صلاحیت پیدا کرنا لیکن مقصد دنیا نہ ہو بلکہ دین ہو۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۹۸ تا ۴۰۵) اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں اپنی چار صفات کا ذکر فرمایا ہے۔اس میں ہمیں بتایا کہ وہ ربّ ہے۔اس نے ہمیں پیدا کیا اور ہماری پرورش کے لئے سامان مہیا فرمائے۔جن کے ذریعہ ہم درجہ بدرجہ پرورش پاتے اور درجہ بدرجہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔وہ رحمن ہے۔ہمارے استحقاق کے بغیر اس نے ہمارے لئے ہماری تمام ضروریات مہیا فرما ئیں۔وہ رحیم ہے۔جب ہم تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اس کی راہوں پر چلتے ہیں تو وہ ایسا کرتا ہے کہ آئندہ کی تکلیفوں سے ہمیں بچا لیتا ہے۔وہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے جب ہم اس کی کامل اطاعت کرتے ہوئے اعمال صالحہ بجالاتے ہیں تو وہ مقام صالح جو ابدی سرور اور خوشحالی کا مقام ہے ہمیں عطا کرتا ہے۔یہ چارصفات، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ اتم الصفات ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی جو سیجی صفات ہیں ان کی بنیادی صفات یہ چار ہیں۔جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاروں صفات اس کے وجود، کرم اور رحمت پر دلالت کرتی ہیں اور اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس کا منشا بھی ہے کہ وہ ہم سے رحم اور کرم کا سلوک کرے مگر کئی بد قسمت لوگ اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کی وجہ سے اپنے آپ کو صفات الہی کے پرتو سے دور کرتے ہیں اور پھر دکھ اٹھاتے ہیں۔ہمیں ہر وقت خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی راہوں سے بھٹک نہ جائیں اور عاجزانہ راہوں سے چاہئیں کہ ان چار صفات کے پر تو کے نیچے رہیں کیونکہ جو شخص ان چار صفات کے پرتو سے نکل جاتا ہے تو وہ دکھ اٹھاتا ہے۔خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۳۴۱،۳۴۰) توحید کے قیام کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہے دو ذمہ داریاں ہیں۔(۱) اپنے نفسوں میں توحید کو قائم کرنا (۲) دنیا میں توحید کو قائم کرنا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے تو بے شمار ہیں وہ گنے نہیں جا سکتے۔اس کی صفات بھی بے شمار ہیں لیکن جن صفات کو اس نے ہماری زندگی میں ظاہر کیا ہے ان میں