انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 306

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۰۶ سورة البقرة حساب دان سائنٹسٹ ہیں انہوں نے اپنی دریافت اور ایجاد کی بنیاد حساب پر رکھی۔حساب بھی ایک سائنس اور فلسفہ بن گیا ہے۔چنانچہ وہ از روئے حساب سوچ رہے تھے فکر و تدبر کر رہے تھے۔خود ہمارے ڈاکٹر سلام بھی فکر و تدبر میں لگے رہتے ہیں اس کی کچھ خصوصیتیں علم طبعی سے ملتی ہیں۔تاہم جہاں تک سائنسی تحقیق میں حساب کا تعلق ہے سائنس دان بے شمار ار بعے لگاتے ہیں اور بڑی لمبی لمبی ضر ہیں اور سیمیں کرتے ہیں۔یہ چونکہ بڑا لمبا حساب بن جاتا ہے اس لئے انسان نے اس کو آسان کرنے کے لئے ایک مشکل سا مضمون بنا دیا ہے جسے الجبرا کہا جاتا ہے۔چونکہ مجھے یہ مضمون سکول کے زمانے میں مشکل لگتا تھا اس لئے میں نے اسے مشکل کہہ دیا ہے۔بہر حال حساب کے مضمون کو آسان کرنے کے لئے لوگوں نے الجبرا بنادیا۔اور اس کی علامتیں بنالیں مثلاً کہہ دیا ا۔ب۔ج کا یہ مطلب ہے اور پھر لوگ اس سے اصولاً کچھ نتائج اخذ کرتے ہیں۔چنانچہ سائنس دانوں نے انہی اصول وقواعد کے مطابق کچھ نتائج اخذ کئے اور چاند پر جانے کے قابل ہو گئے یا زمین میں اٹامک انرجی کو استعمال کرنے لگے۔وغیرہ وغیرہ۔غرض سائنس دانوں نے اپنی خداداد طاقتوں اور قوتوں کو قوانین قدرت کے مطابق استعمال کیا۔آخر ایٹم کی طاقت کا پتہ کیسے لگا؟ یہ انسان کی طاقت تھی، یہ اس کی استعداد تھی جو اس کے جسم سے باہر نکل آئی گویا اس کی طاقت کی نسل ہوگئی۔اس کا انفصال ہو گیا۔یہ باہر نکلی اور باہر نکلتی چلی جارہی ہے۔یہ ایک چشمہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔اسی طرح جب تک انسان زندہ ہے اس کی طاقتیں باہر نکلتی چلی جائیں گی۔یہ ایک تبدیلی ہے جو مسلسل رونما ہوتی چلی جائے گی۔پس حرث سے مراد مادی ذرائع ہیں اور نسل انسان کی محنت ہے۔انسان اپنی طاقتوں کو کام پر لگاتا ہے۔یہ دو بنیادی چیزیں ہیں یہ دو بنیادی نعمتیں ہیں جو انسان کو دی گئی ہیں۔انسان اپنی فطرتی اہمیت کے صحیح استعمال کرنے پر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن مفسدان ہر دو قسم کی نعمتوں کو ہلاک اور برباد کر دیتا ہے۔ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے وہ کبھی ایٹم بم سے زمین کی پیداوار کو ختم کر دیتا ہے کبھی وہ کیمیکل اجزاء چھڑک کر اچھے پودوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ایسے مفسد آدمی نے ایک وقت میں کہا یہ تھا کہ اس نے یہ کیمیکل اجزاء اس لئے بنائے ہیں کہ وہ ان سے مضرت رساں کیڑوں کو ہلاک کرے گالیکن جب وہ تحقیق کرتے ہوئے ایسے کیڑوں پر پہنچا جو مفید ہیں مضرت رساں نہیں تو ایسے مفسد اور