انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 23

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۳ سورة الفاتحة و جمادات کا ایک گروپ اور اجسام و حیوانات کا دوسرا اور ارواح کا تیسرا اس میں یہ شکل بنتی ہے کہ اس سارے عالمین میں وہ اشیاء جن کا تعلق نباتات و جمادات سے ہے مثلاً کا نین ہمیشیم اس کے اندر نمک آ جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اور یہ جو نباتات ہیں کھیتیاں ہیں، یہ درخت ہیں، یہ جنگل والے درخت ہیں، یہ پھل والے درخت ہیں یہ ساری چیزیں جو ہیں یہ نباتات میں آتی ہیں۔یہ ساری کی ساری چیزیں حیوانات کی خدمت کر رہی ہیں، حیوانات و اجسام کی خدمت کر رہی ہیں اور جو حیوانات واجسام ہیں یعنی حیوانات کے اجسام، وہ سارے کے سارے آگے انسان کی خدمت کر رہے ہیں، تو کچھ خدمت نباتات و جمادات اجسام و حیوانات کی وساطت سے انسان کی کر رہے ہیں۔نباتات و جمادات کچھ خدمت بالواسطہ نہیں، بلا واسطہ ارواح کی یعنی انسان کی جس کو خدا تعالیٰ نے قائم رہنے والی روح عطا کی ہے اس کی کر رہے ہیں۔سَخَرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجالية: ۱۳) کہا - گیا ہے۔تو رب العالمین کی ربوبیت کا تعلق تمام اجسام سے ہے، ہر چیز جو مخلوق ہو اور ارواح سے بھی ہے اور تمام اجسام جو ہیں وہ ایک جہت کی طرف جارہے ہیں۔پہلے وہ ملتے ہیں انسانی زندگی کے ساتھ۔پھر انسان کی جو ہے کوشش اور تگ و دو اور دوڑ یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن میں روشنی پیدا کرے، اچھے اخلاق کا مالک ہو، روحانی میدان میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے اور اپنے لئے ایک ایسی پیاری ، خوشحال ابدی زندگی پائے جو مرنے کے بعد ملتی ہے انسان کو۔تو ہم کھیل اس لئے کھیلتے ہیں کہ ہمارے لئے جنت میں جانا آسان ہو جائے۔ہم وہ بوجھ اٹھا سکیں جن بوجھوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ جنت میں بھیجنے کے سامان پیدا کرتا ہے اپنے فضل سے۔یہ جسمانی استعداد میں اور صلاحیتیں جو ہیں ان کا تعلق ربوبیت رب العالمین سے ہے۔دوسرے ہیں ذہنی صلاحیتیں ، ان کا تعلق خدا تعالیٰ کی صفت رحمن سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ہر جاندار کو جس میں انسان بھی شامل ہے اس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی۔جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ جسم اور اعضا کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کر دیئے۔تو صفت رحمانیت کا تعلق سارے جانداروں سے ہے، حیوانات سے ہے اور تمام حیوانات کم یا