انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 274 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 274

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۷۴ سورة البقرة ہو جائے گی۔تو فَاجْعَلْ أَفْهِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا ! ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم اس قابل ہوں کہ تیری خاطر اور تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ایک جہاں کے دل جیتیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لاکر رکھ دیں۔پھر جو ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔اُمتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔وہ صرف ایک نسل سے تو تعلق نہیں رکھتی نسلاً بعد نسل یہ ذمہ داری اٹھانی ہے قیامت تک یہ ذمہ داری اٹھانی ہے اس واسطے آنے والی نسلوں کے لئے دعا کرنا ضروری ہے۔قرآن کریم کہتا ہے :- رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء (ابراہیم : ۴۱) کہ اے خدا مجھے بھی عمدگی سے نماز ادا کرنے کی توفیق دے اور میری آنے والی نسل کو بھی۔میری ذریت کو بھی کہ ہم عمدگی سے نماز ادا کریں یعنی اس طور پر نماز ادا کرنے والے ہوں کہ تو ہم سے راضی ہو جائے اور ہماری وریت اس طور پر نماز ادا کرنے والی ہو کہ تو ان سے راضی ہو جائے۔مگر اپنی طاقت سے ہم یہ کر نہیں سکتے ہماری اس دعا کو قبول کر ربنا وتقبل دعاء اور اس دعا کو قبول کر کہ ہم نماز ادا کرنے والے ہوں عمدگی کے ساتھ اور ہماری ذریت اور ہماری ہر دعا کو قبول کر جو تیرے نور کو پھیلانے والی اور دنیا سے اندھیروں کو دور کرنے والی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو دنیا کے سامنے اس رنگ میں پیش کرنے والی ہو کہ وہ مؤثر بن جائے اس دنیا کے لئے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان کو ابھی پہچانتی نہیں۔باہمی تعلقات ہیں۔بھائی چارہ بنا دیا نا اُمتِ مسلمہ کو ایک خاندان بنادیا۔اور سورہ حشر آیت ۱۱ میں ہمیں یہ دعا سکھائی کہ ہمیں اور ہم سے پہلے آنے والے بھائیوں کو بخش دے۔جو پہلے بزرگ گزرے ہیں (صرف اپنے زمانہ میں بسنے والے نہیں) بلکہ اس تعلق کو اگلے اور پچھلوں کے ساتھ باندھا گیا ہے دراصل اور ہمارے دلوں میں مومنوں کا کینہ کبھی پیدا نہ ہو۔بڑی عجیب دعا ہے سارے فتنوں کو دور کرنے والی۔بعض دفعہ انسان حق لے کر بعض دفعہ حق چھوڑ کر فتنہ دُور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ( الممتحنة :۶ ) اے ہمارے رب ہمیں مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے اور ہماری غلطیاں اور کمزوریاں اگر کوئی ہوں بھی تو ایسے رنگ کی نہ