انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 268

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۶۸ سورة البقرة یہ ہمارا پیار کا تعلق ہے ) وہ پڑھ لینے کے بعد ہم اپنے رب کے حضور اپنی زبان میں دعا کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ضرورت کے وقت یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ ایک یوگوسلاوین عربی کی دعائیں پڑھنے کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعا کرے۔ایک انگریز انگریزی میں بھی دعا کرے۔ایک البانین ، البانین زبان میں بھی دعا کرے۔ایک افریقن جس کی زبان تحریر میں بھی ابھی نہیں آئی لیکن اہل افریقہ اسے بولتے ہیں وہ اپنی زبان میں دعائیں کریں تا کہ وہ ایک قریبی تعلق محسوس کریں اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ۔اجیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جس زبان میں بھی دعا میرے سامنے کی جائے گی اسے میں قبول کروں گا۔شرائط یہ ہیں کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا ني - فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي دو معنی میں ہے۔قرآن کریم نے اور قرآن کریم کی تفسیر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قبولیت دعا کے لئے جو شرائط بیان فرمائی ہیں وہ بھی ایک حکم ہے اس کو قبول کریں۔دعا کو دعا کی شرائط کے ساتھ کریں اور دوسرے یہ کہ کسی قسم کا ظاہری یا باطنی شرک نہیں کرنا۔ایک شخص مشرک ہے اور وہ دعا کرتا ہے خدا سے تو اس سے قبولیت کا وعدہ یہاں نہیں لیکن وہ خالق مالک بھی ہے وہ ان کی بھی بعض دفعہ سن لیتا ہے۔بڑا دیا لو ہے وہ۔لیکن کہا یہ گیا ہے کہ میرے پیار کو حاصل کرنا ہے اگر تو جو شرائط میں نے دعا کے لئے قائم کی ہیں ان کے مطابق دعا کرو۔اور جو اسلام کے احکام ہیں قرآنی احکام ہیں ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارو۔وَلْيُؤْمِنُوا بِي اور خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کر وجس کا ایک ذریعہ عاجزانہ دعا ئیں بھی ہیں۔تو تمہیں کامیابی اور ہدایت مل جائے گی۔قرآن کریم نے محض یہ نہیں کہا کہ دعائیں کرو میں قبول کروں گا بلکہ قرآن کریم نے ایک عالم کا عالم دعاؤں کا ہمارے سامنے کھول کے رکھ دیا ہے۔اس میں سے (جو ایک لمبا مضمون ہے) کچھ حصے میں نے چنے ہیں آج کے خطبہ کے لئے۔اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتا ہے:۔رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( البقرة : ۲۰۲) یہاں دعاؤں کی بنیاد رکھی گئی۔یہاں یہ فرمایا گیا کہ دنیوی نعماء کے حصول کے لئے بھی دعائیں کریں اور اُخروی نعماء کے حصول کے لئے بھی دعائیں کرو اور وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کا فقرہ ورلی زندگی اور اخروی زندگی کو باندھ دیتا ہے کیونکہ اسی زندگی کی بنیاد پر اخروی زندگی کی جنتوں کا انحصار ہے تو بہت بڑا عالم ہمارے سامنے رکھ دیا گیا۔