انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 263
دوو دو ۲۶۳ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے حصول کا خیال آئے کہ وہ کس طرح اپنے رب سے تعلقات پیدا کر سکتے ہیں تو ان سے کہہ دو میں تم سے دور تو نہیں ہوں۔اُجیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔میرے قرب کی علامت اور نشان یہ ہے کہ میں دعاؤں کو سنتا ہوں اور دعا سننے کے بعد یہ اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے دعا کو قبول کر لیا ہے۔ا جیب میں محض اجابت یعنی قبول کرنا ہی نہیں بلکہ بسا اوقات اس کی اطلاع دینا بھی شامل ہوتا ہے۔یہ اطلاع یا تو عملاً ہوتی ہے اور یا لفظاً بھی۔رؤیا اور کشوف کے ذریعہ یا الہام کے ذریعہ بھی ہوتی ہے۔دعا کرنے والے کے روحانی مقام اور ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا سلوک ہوتا ہے یہ لبی تفصیل ہے اس میں اس وقت جانے کا وقت نہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں کی دعا کے نتیجہ میں پیار اور قبولیت کی کیفیت تب پیدا ہوگی جب وہ میرا حکم مانیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں گے اور میری نازل کردہ ہدایت پر قائم ہو جائیں گے تا کہ جس غرض کے لئے میں نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ غرض پوری ہو۔دعا کے سلسلہ میں یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ ہر انسان دعا اپنے لئے بھی کرتا ہے اور دوسرے فرد کے لئے بھی کرتا ہے اس سلسلہ میں جیسا کہ پہلے اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کے ترجمہ میں میں بتا چکا ، ہوں خدا تعالیٰ بتاتا ہے انسان اپنے لئے بھی دعا کرتا ہے۔دوسرے فرد کے لئے بھی دعا کرتا ہے۔حدیث میں آتا ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تیری ویری لہ کہ اللہ تعالیٰ دعا کرنے والے کو خواب کے ذریعہ اطلاع دیتا ہے اور دوسرا آدمی اس کے لئے دعا کر رہا ہو تو اسے بھی اطلاع دیتا ہے کہ اس کے دوست یا بزرگ یا بھائی یا بیٹے یا خلیفہ وقت کے متعلق دعا قبول ہو گئی ہے اور دعا اجتماعی بھی ہے۔اجتماعی دعا بعض حالات میں اور بعض زمانوں میں بہت ضروری ہو جاتی ہے اور اگر انسان انفرادی دعائیں اجتماعی دعا پر قربان کر دے تو میری یہ ذاتی رائے ہے اور جو تاریخ میں نے پڑھی ہے اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ پھر اپنے لئے نہیں بھی دعا کر رہا ہوتا تب بھی اس کی دعا قبول کر لی جاتی ہے کیونکہ وہ خدا کی مخلوق کے لئے دعائیں کر رہا ہوتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آپ نے عرب میں ایک عظیم روحانی انقلاب بپا کر دیا۔عرب وحشی اور درندہ صفت تھے عمل کرنا تو در کنار ان کو حسن اخلاق کا علم ہی نہیں تھا۔کتوں اور سوروں کی طرح وحشیانہ زندگی گزار رہے تھے لیکن