انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 262

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۶۲ سورة البقرة رمضان کے علاوہ عام دنوں میں وہ دعائیں قبول نہیں کرتا۔وہ ہر وقت دعائیں قبول کرتا ہے۔جب بھی اس کا کوئی بندہ مضطر ہو کر اس کے حضور جھکتا اور اس سے دعا مانگتا ہے وہ اس کی دعا کو قبول کر کے اس کے لئے ایک عید پیدا کر دکھاتا ہے۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ ایک عید تو وہ ہے جس کا درواز ہ ماہ رمضان میں کھلتا ہے اور ایک عید وہ ہے جو عاجزانہ دعائیں کرنے والے ایک مومن کو ہر وقت حاصل ہوتی رہتی ہے۔أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ سے بڑھ کر ایک مومن کے لئے اور کیا عید ہوگی۔اصل بات یہ ہے کہ ہر احمدی کو خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کرنا چاہیے تا کہ قبولیت دعا کا حظ اسے حاصل ہو۔لیکن یہ یاد رکھنا چا۔کہ وہ خالق اور مالک ہے کبھی بندے کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے اور دونوں ہی حالتیں مومن کے لئے عید کی آئینہ دار ہوتی ہیں اس لئے کہ اس کی اصل عید رضائے الہی میں ہوتی ہے۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۱۰۷ تا ۱۱۰) ا قرآن کریم کی یہ بھی شان ہے کہ وہ بنیادی اصول ایسی جگہ بیان کر دیتا ہے جہاں اس کے پہلے مضمون کے ساتھ خاص تعلق ہو۔گو وہ مضمون ماقبل کے ساتھ بندھا ہوا تو نہ ہولیکن اس کا خاص تعلق ہو۔رمضان کے ساتھ دعا کا ذکر کرد یا فرمایا: وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ - اب دعا صرف رمضان کے مہینے میں ہی تو نہیں کرنی ہوتی لیکن رمضان کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی عبادات کو اکٹھا کر کے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ انسان اگر چاہے تو خاص طور پر اپنے رب کریم کی طرف زیادہ خشوع و خضوع اور ابتہال کے ساتھ متوجہ ہونے کے مواقع پاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اُس کی دعائیں عام حالات کی نسبت زیادہ کثرت سے خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہو سکتی ہیں اگر دل میں اخلاص ہو اور کوئی کجی اور فساد نہ ہو لیکن ویسے یہ ایک عام اصول ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ تو ہر آن اور ہر گھڑی ہر شئے کا تعلق ہے اور خدا سے زندہ تعلق قائم کرنا یہ ایک مسلمان کا فرض ہے۔خدا تعالیٰ کی خدائی تو اپنا کام کر رہی ہے خواہ انسان اس کی طرف متوجہ ہو یا نہ ہو اس کے جسم میں ہزار ہا تغیر اللہ تعالیٰ کے براہ راست حکم سے پیدا ہور ہے ہیں۔۔۔۔۔۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر میرے بندے میرے متعلق پوچھیں یعنی قرب الہی