انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 255
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۵ سورة البقرة قائم کئے ہیں اور اگر تم سفر پر ہو تو میں نے مسافر کے بہت سے حقوق قائم کئے ہیں لیکن ان تمام حقوق کے باوجود گھر میں جو آرام و آسائش ہے وہ سفر میں نہیں مل سکتا اس لئے میں تمہارے لئے سہولت پیدا کرتا ہوں اور تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ تم سفر میں ہونے کی حالت میں رمضان کے روزے نہ رکھو جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس سہولت کی قدر نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے اس پیار کو نہیں سمجھتا وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس قدر محبت اور پیار کا سلوک ہم سے کیا ہے کہ انسان شرم کے مارے اپنی گردن جھکا لیتا ہے اور پھر وہ گردن جھکی ہی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پیشانی نیستی کے آثار لئے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے حقوق سفر کا ذکر کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات قرآنیہ کی نہایت ہی حسین تفسیر بیان کی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورۃ بقرہ کی آیت ۱۷۸ میں یہ فرماتا ہے کہ کامل نیک وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں اور اس کی رضا کے حصول کے لئے مسافر پر اپنا مال خرچ کرتا ہے سورہ بقرہ ہی کی آیت ۲۱۶ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو اموال تم خرچ کرتے ہو یا دوسری نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہیں مثلاً وقت ہے خدمت کرنے کی اہلیت ہے ( یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں ) اور تم اس کی رضا کے حصول کے لئے اس راہ میں خرچ کرتے ہو ان میں مسافروں کا بھی حق ہے یعنی اگر تم مسافر پر ان چیزوں کو خرچ کرو گے تو اس مسافر پر تمہاری طرف سے احسان نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کا حق ہے جو تم ادا کر رہے ہو گے سورہ نساء کی ۳۷ ویں آیت میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسافر کے ساتھ بہت احسان کا سلوک کرو اور سورۃ الاسراء کی ۲۷ ویں آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو کھول کر بیان کر دیا ہے کہ مسافر کو اس کا حق دو اور اسراف کا رنگ اختیار نہ کرو جیسا کہ فرمایا۔وَآتِ ذَا الْقُرْني حَقَةَ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا ( بنى اسرائیل : ۲۷) یعنی اسراف سے ورے ورے مسافر کی ہر ضرورت کا خیال کرو یہ تو نہیں کہ مسافر کی خاطر اور اس کی خدمت میں خدا تعالی کے دوسرے احکام کو انسان بھول جائے اسراف سے ورے ورے، ہر خدمت جو ممکن ہو سکتی ہے وہ مسافر کی کرو۔غرض اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کا حکم دینے کے بعد فرمایا کہ دیکھو جب تم سفر میں ہوتے ہو تو ہم نے تمہارے لئے کس قدر آرام کا ماحول پیدا کیا ہے ہم نے تمہارے بھائیوں کو کہا ہے کہ تم