انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 254

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۵۴ سورة البقرة اُمت محمدیہ میں قائم رہے گا۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ ۲۲) غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ قرآن کریم میں بہت بڑی روحانی تاثیرات پائی جاتی ہیں اور تم اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق ڈھالو اور ان احکام کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزار و جو قرآن نے بتائے ہیں اس کے نتیجہ میں ایک طرف تو تمہاری عقل میں جلا پیدا ہو جائے گا اور دوسری طرف جتنا جتنا تقویٰ تم حاصل کرو گے جس قدر مقام قرب کو تم پا لو گے اس کے مطابق اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے رموز تم پر کھولے گا اور تمہیں اپنا مقرب بنالے گا وہ ایک امتیازی نشان تمہیں دے گا یہ ممتاز مقام ایک مسلمان کی زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے ایک مسلمان کی ہر حرکت اور سکون میں ہمیں ایک امتیاز نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر حرکت اور سکون کے متعلق ہماری راہ نمائی فرمائی ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۲۵،۴۲۴) اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دیکھو میں تم سے بڑا ہی پیار کرنے والا ہوں میں نے جو احکام تمہیں تمہاری ترقیات کے لئے دیئے ہیں ان میں اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ تمہارے لئے کوئی تنگی نہ پیدا ہو بلکہ آسانی اور سہولت کے ساتھ تم ان ذمہ داریوں کو بجالاتے رہو جو تم پر ڈالی گئی ہیں ( یہ اور بات ہے کہ کبھی فطرت بہا نہ سہولت کو بھی تنگی سمجھے لگتی ہے اور انعام کو بھی ایک کوفت محسوس کرتی ہے ) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے احکام بھی دیئے ہیں وہ اس لئے دیئے ہیں کہ ہم جسمانی لحاظ سے بھی اور دنیوی زندگی میں بھی اور روحانی طور پر بھی اور اُخروی زندگی میں بھی فلاح کو حاصل کریں اور ان احکام میں اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ ہمارے لئے تنگی اور مجبوری کے حالات نہ پیدا ہوں اور ایسا نہ ہو کہ انسان کو یہ احساس ہو کہ مجھ میں ان احکام کو بجالانے کی قوت اور طاقت تو نہیں ہے لیکن میرا رب مجھے سے یہ مطالبہ کر رہا ہے۔چونکہ یہاں ہمارا محبوب آقا ہمیں رمضان کے متعلق ہدایات دے رہا ہے اس لئے اس نے دو چیزوں کو ہمارے سامنے رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو تو پھر رمضان کے روزے نہیں رکھنے اور جب ہم اسلام کی اور قرآن کریم کی مجموعی تعلیم پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو اگر تم مریض ہو تو میں نے مریض کے بہت سے حقوق