انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 253 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 253

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۳ سورة البقرة ہے اسی طرح یہ ایسی کامل شریعت ہے جو صدق اور کذب کے درمیان بڑے نمایاں طور پر ایک امتیاز پیدا کرتی ہے ایک سمجھدار کو سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ دکھا دیتی ہے اسی طرح جہاں تک اعمال کا تعلق ہے قرآنی تعلیم بتاتی ہے کہ کس قسم کے اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صالح اور حمید ہیں اور کس قسم کے اعمال اور کون سے اعمال خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں اور چونکہ یہ ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ ہے اس لئے یہ کتاب بڑی تاثیروں کی مالک ہے اس کتاب سے پہلے بھی شریعتیں نازل ہوتی رہی ہیں لیکن اضافی طور پر قرآن کریم کے مقابلہ میں وہ ناقص تھیں۔جب انسان اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی میں انتہائی مدارج تک پہنچ گیا اور انسان کی بحیثیت انسان استعداد روحانی اس قابل ہو گئی کہ وہ کامل شریعت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکے تو اس وقت قرآن کریم کا نزول ہوا اور اس نے ہر قسم کے غلط اور سیچ، سچ اور جھوٹ، اعمال صالحہ اور نا پسندیدہ اعمال کے درمیان ایک فرق اور امتیاز پیدا کیا پہلی کتب گواپنے زمانہ کے لحاظ سے کامل کتابیں تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو حق و باطل میں ہر قسم کا امتیاز پیدا کرنے والی ہو اس لئے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ہم سے یہ وعدہ کیا ہے۔إن تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُم فرقان (الانفال :۳۰) اگر تم اپنی راہ نمائی کے لئے قرآن کریم کو چنو گے اور پسند کرو گے اور اختیار کرو گے تو تمہیں بھی ایک امتیازی مقام دیا جائے گا اور تمہیں اللہ تعالیٰ حق و باطل میں امتیاز کرنے کی توفیق دے گا اور قرآن کریم کی روحانی برکات کے طفیل تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو صحیح کو غلط سے اور ظلمت کو روشنی سے جدا کرتا چلا جائے گا اور تمہاری راہ کو سیدھا اور آسان کر دے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس روحانی تاثیر کے متعلق بہت کچھ لکھا اور فرمایا ہے لیکن میں نے اس موقعہ کے لئے ایک مختصر سا حوالہ لیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔" پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کے روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلے آتے ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالمات الہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں خدائے تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرار غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید و نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے ( یعنی ان کیلئے ایک فرقان بنا دیتا ہے ) یہ بھی ایسا نشان ہے جو قیامت تک