انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 252 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 252

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۲ سورة البقرة اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے لیکن اس دنیا میں اگر کوئی کامل ظل معلم کی حیثیت میں پیدا ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُم يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ ( الجمعة : ٣) کہ اللہ تعالی نے ایک ان پڑھ قوم میں انہی میں سے ایک فرد کو رسول بنا کر بھیجا ہے جو رسالت کے ارفع و اعلیٰ مقام پر فائز ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمُ اليه وہ تمام احکام شریعت ان کے اوپر پڑھتا ہے جس بات کا ھدی للناس کے ساتھ تعلق ہے اس کو وہ کھول کر ان کو بتاتا ہے قرآن کریم فرماتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں روزے رکھو دوسری شرائط کو پورا کرو، شور وغوغانہ کرو، گالیاں نہیں دینی اپنی پوری توجہ قرآن کریم اور اس کی برکات کے حصول کی طرف پھیرنی ہے اپنے نفس کو ( اس ماہ میں خصوصاً) مارنے کی کوشش کرنی ہے اور اسلَمتُ لِرَبِّ الْعلمین میں جس مقام کا ذکر ہے اپنی استعداد کے مطابق اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے ویزکیھم پھر اپنی قوتِ قدسیہ کے نتیجہ میں وہ ان کے نفوس میں بھی تزکیہ نفس پیدا کرتا ہے جب یہ تزکیہ نفس پیدا ہو جاتا ہے یعنی آپ کی قوت قدسیہ سے فائدہ اُٹھا کر اور آپ کے اُسوہ پر عمل کر کے انسان خدا کی نگاہ میں محبوب اور پیارا اور مطہر بن جاتا ہے تو پھر وہ يُعَلِّمُهُمُ الكتب کے اسرار روحانی ان کو سکھاتا ہے و الحكمة اور اس قرآن عظیم کی حکمت کی باتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے طفیل ان پر ظہور ہونے لگ جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کامل اور مکمل ظلی معلم کے فیوض جاری ہوتے ہیں اور قیامت تک ایسے لوگ آپ کے فیض کے نتیجہ میں پیدا ہوتے رہیں گے جس طرح آپ ہی کے فیض کے نتیجہ میں آپ سے قبل آدم سے لے کر آپ کے زمانہ تک خدا تعالیٰ کے مقرب پیدا ہوتے رہے غرض اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ تزکیہ نفس کے بعد ہی تعلیم الکتاب کا امکان پیدا ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۱۶ تا ۴۱۹) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم کا رمضان کے مہینہ سے بڑا گہرا تعلق ہے قرآن کی اصولی برکات میں سے جو فرقان ہونے کی برکت ہے اس سے بھی اگر تم چاہو اور مجاہدہ کرو تو رمضان کے مہینہ میں زیادہ حصہ لے سکتے ہو فرقان کے معنی ہیں وہ چیز جو حق و باطل میں ایک امتیاز پیدا کر دے قرآن کریم کے متعلق جب فرقان کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی لئے جاتے ہیں کہ یہ ایک کامل اور مکمل ہدایت ہے جو ہر غلط اعتقاد کی نشان دہی بھی کر رہی ہے اور ہر صحیح اعتقاد کی طرف راہ نمائی بھی کر رہی ہے اور اعتقادات کے لحاظ سے حق اور صداقت اور باطل کے درمیان ایک نمایاں امتیاز پیدا کر دیتی