انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 251
۲۵۱ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ایسے لوگ کھڑے کئے جاتے ہیں جنہیں یہ دلائل سکھائے جاتے ہیں پس اس برکت سے حصہ لینے کے لئے انتہائی جہاد تزکیہ نفس کے حصول کے لئے اور نہایت متضرعانہ دعا ئیں اس مجاہدہ کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ فضل نہ کرے کوئی شخص اپنی طاقت یا زور یا علم یا فراست یا عقل سے خدا کی نگاہ میں اپنے آپ کو پاک اور مطہر نہیں بنا سکتا اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اور جو اس کے فضل سے طہارت اور تزکیہ کے نہایت ہی اعلیٰ مقام کو حاصل کر لیتے ہیں اور ان پر قرآنی انوار اور قرآنی اسرار اور قرآنی معارف کے دروازے کچھ اس طرح کھولے جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک خارقِ عادت حیثیت رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے میں حضور کا ایک اقتباس اس وقت پڑھوں گا لیکن اس کے پڑھنے سے قبل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے خود اس مضمون کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَذلِكَ نُصَرِفُ الْأَيْتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَةَ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (الانعام : ١٠٦) یعنی ہم نے قرآن کریم کی آیتوں کو کئی طرح پھیر پھیر کے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ایک نُصَرِفُ الْأَیتِ تو اس طرح ہے کہ مختلف طبائع کو اپیل کرنے والی جو باتیں تھیں وہ مختلف طبائع کے لحاظ سے قرآن کریم نے بیان کر دیں تا کہ کوئی طبیعت خدا کے حضور یہ نہ کہے کہ میری فطرت کو تو تو نے ایسا پیدا کیا تھا لیکن اس کے مطابق مجھے دلیل نہیں دی گئی اور ایک یہ ہے کہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سے نئے سے نئے دلائل اور نئے سے نئے حج اور براہین لوگوں کو بتاتا رہتا ہے اور جن کو وہ یہ دلائل اور براہین سکھاتا ہے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ظلمی طور پر معلم بنا دیتا ہے اور اس معلم کا کام یہ ہے کہ درست تو لوگوں کو سکھلا دے ان کے سامنے بیان کر دے لیکن صرف یہ درس کافی نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِنُبَيْنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اور اس کے علاوہ ایک اور سلسلہ ہم نے یہ جاری کیا ہے کہ ایسے علماء ربانی پیدا ہوتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خشیت سے معمور اور اس کے تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر قائم ہوتے ہیں اور لنبيِّنَة لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اللہ تعالیٰ ایسے علماء کی جماعت کے لئے قرآنی آیات کو کھول کر بیان کر دیتا ہے وہ مطہر نفس دنیا میں آکر قرآن کریم کے اسرار کو حاصل کرتے اور پھر ان کا درس دیتے ہیں۔اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو معلم حقیقی کے کامل ظل ہیں احکام قرآنی کو کھول کر بیان کرتے ہیں پس معلم تو