انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 250
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۰ سورة البقرة آج میں بَنتِ مِنَ الْهُدی کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی دوسری برکت جس کا ذکر اس نے اس آیت میں کیا ہے یہ بیان ہے کہ قرآن کریم صرف ہدایت کی راہ ہی نہیں بتاتا بلکہ حکمت بھی بتاتا ہے دلائل بھی دیتا ہے اور ان ہدایت کی راہوں سے جو چیزیں یا ماحول کے دباؤلے جانے والے ہیں ان پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور ہمیں ان غلط راہوں کے فساد پر آگاہ کرتا ہے اور جو نیکیاں ہیں ان کو بھی بیان کرتا ہوں اصولاً تو وہ ایک ہی ہیں لیکن حالات اور زمانہ کے لحاظ سے عمل صالح بھی بدلتے رہتے ہیں مثلاً جس وقت منکرِ اسلام نے تلوار سے اسلام کو مٹانا چاہا اس وقت ایک مسلمان کی ذمہ داری کچھ اور تھیں اور جب اس میں ناکام ہو کر ہر قسم کے دجل کے حربوں کو اس کے خلاف استعمال کیا گیا تو اسی وقت ایک مسلمان کی ذمہ داریاں پہلی ذمہ واری سے مختلف ہوگئیں گو اصولی طور پر ان کی ایک ہی ذمہ داری رہی کہ اپنا سب کچھ قربان کر کے اسلام کا دفاع اور اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ اصولی ذمہ واری ہے لیکن ایک زمانہ میں اس اصولی ذمہ واری کی کچھ اور شکل تھی اور دوسرے زمانہ میں اس اصولی ذمہ واری کی شکل کچھ اور بن گئی غرض قرآن کریم نے اپنے احکام کی حکمت اور دلائل بیان کئے قرآن کریم کے اسی فقرہ یا اسی حصہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اور اس کے معنی بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم جو تعلیم دیتا ہے اس کی صداقت کی وجوہات پہلے دکھلا لیتا ہے اور ایک مطلب اور مدعا کو حج اور براہین سے ثابت کرتا ہے اور ہر ایک اصول کی حقیت پر دلائل واضح بیان کر کے مرتبہ یقین کامل اور معرفتِ تام تک پہنچاتا ہے اور جو جو خرابیاں اور ناپاکیاں اور خلل اور فساد لوگوں کے عقائد اور اعمال اور اقوال اور افعال میں پڑے ہوئے ہیں ان تمام مفاسد کو روشن براہین سے دُور کرتا ہے پھر اسی تسلسل میں آگے جا کر اصولی طور پر آپ نے بیان کیا۔بینائی دلی اور بصیرت قلبی کے لئے ایک آفتاب چشم افروز ہے اور عقل کے اجمال کو تفصیل دینے وو 66 والا اور اس کے نقصان کا جبر کرنے والا ہے۔(براہین احمدیہ ہر چہار ص روحانی خزائن جلد صفحه ۸۲) اور اس آیت کے ایک معنی یہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں بیان کئے ہیں کہ قرآن کریم ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے احکام کی حکمتیں اور اس زمانہ کے فساد کو دور کرنے کے لئے جن دلائل کی ضرورت ہے وہ اپنے اندر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے