انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 236 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 236

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۶ سورة البقرة ہے اس کے متعلق بھی ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ نقص پیدا ہو جاتا ہے یا بھول چوک ہو جاتی ہے۔ماں اور مامتا کے باوجود اور باپ اپنے پیار کے باوجود تربیت اولاد میں غلطیاں کر جاتا ہے خواہ اولاد کی جسمانی تربیت ہو یا اخلاقی اور روحانی تربیت ہو مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! تمہارے عبد بننے ہومگر کے لئے جن طاقتوں اور جن صلاحیتوں کی ضرورت تھی وہ ساری کی ساری تمہیں دے دی گئی ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ اُن کی کامل نشو ونما کے لئے جس قسم کے مادی ذرائع کی ضرورت تھی، وہ بھی پیدا کر دیئے گئے ہیں۔پس ان طاقتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ان کی نشوونما کے لئے مادی ذرائع کا پیدا کر دینا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بہت ہی قریب ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ماڈی قومی اور ان کی تربیت اور نشوونما کے لئے زمین و آسمان پیدا کئے۔چنانچہ فرمایا : سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ١٣) زمین و آسمان میں بے شمار چیزیں ہیں جو انسانی پیدائش سے بھی پہلے پیدا کی گئی ہیں۔یہ پیدائش یعنی انسان کی قوتوں میں استعدادی کمال کا پایا جانا اور اُن کی نشوو نما کے لئے ہر ضروری چیز کا موجود ہونا اللہ تعالیٰ کے قرب کی دلیل ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے عبد بننے کے لئے صرف مادی قومی کافی نہیں تھے۔روحانی صلاحیتوں اور قوتوں کی بھی انسان کو ضرورت تھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو روحانی صلاحیتیں بھی عطا فرمائیں۔پس اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے روحانی قوت اور استعداد کا پیدا کر دینا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کے بہت قریب ہے۔پھر جہاں تک روحانی قوتوں کا تعلق ہے انسان از خود اُن سے کام نہیں لے سکتا اس لئے روحانی قوتوں کی کمال نشو و نما کے لئے ہر آن ہدایت باری تعالی کی ضرورت ہے۔غرض تخلیق کائنات کا یہ ایک لمبا سلسلہ ہے جس کی طرف پہلی آیت میں اشارہ ذکر کیا گیا ہے اور پھر وضاحت کے ساتھ اس مضمون کے متعلق قرآن عظیم میں ایک لمبا سلسلہ چلتا ہے۔چنانچہ خالی ہی نہیں فرمایا کہ آدم کو ایک ہدایت دے دی اور انسان کو کہا کہ تم اس کے مطابق روحانی ترقیات کرتے چلے جاؤ بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت انسان کو اپنی نشو و نما کے جس درجہ اور جس مقام پر پہنچنا تھا اور اس کے لئے جس قسم کی آسمانی ہدایت کی ضرورت تھی وہ ان کو دے دی گئی۔پھر اس کے بعد