انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 235 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 235

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۳۵ سورة البقرة بیویوں کے ) پاس نہ جاؤ۔یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اس لئے تم اُن کے قریب ( بھی ) مت جاؤ۔اللہ اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے احکامات بیان کرتا ہے تا کہ وہ ( ہلاکتوں سے ) بچیں۔اس رکوع میں جو رمضان کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ایک یہ آیت ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ - دو اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں انسان یا بشر کو مخاطب نہیں کیا بلکہ عباد“ کو مخاطب کیا ہے اور یہ سارا مضمون اللہ کے ”عبد“ سے تعلق رکھتا ہے اس عبد سے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الذاریات کی اس آیت میں بھی کیا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ (اللديت : ۵۷) فرمایا میں نے انسان کو عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے جو شخص حقیقت امیر اعبد بنا چاہتا ہے اور میری صفات کا مظہر بننے کی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لئے مجاہدہ کرنے کیلئے بھی تیار ہے تو اسے یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ میں اس کے بہت قریب ہوں۔چنانچہ جب ہم عبد کی حقیقت یا عبد بننے کی حالت یا عبد بننے کی اہلیت کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک مادی وجود دیا اور اس کو بروئے کارلانے کیلئے مختلف قومی عطا فرمائے۔ماڈی قومی اور ان کی پرورش کے لئے بہت کچھ چاہیے تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے مادی قومی اور بالواسطہ روحانی قومی کی پرورش کے لئے اس کائنات کو بنایا۔اب کامل قومی (مادی لحاظ سے ) عطا کرنا ، پھر اُن کی ساری حکمتوں کو اور سارے پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر اُن کے لئے ضرورت کی ہر چیز کو پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔(ویسے تمثیلاً ہم اپنی زبان میں یہی کہہ سکتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی صفات تو بڑی مختلف ہیں۔ہمیں سمجھانے کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ) پس بار یک در باریک طاقتوں اور ان کی نشوو نما کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی اس کو پیدا کرنے کے لئے انتہائی قرب کی ضرورت تھی کیونکہ جو شخص دُور ہوتا ہے وہ کسی کی ضرورتوں کو پہچانتا اور سمجھتا ہی نہیں اس لئے وہ مادی قومی کی نشو و نما کے لئے کچھ پیدا ہی نہیں کر سکتا یا اگر پیدا کر سکتا ہے تو وہ ادھوری چیزیں ہوتی ہیں۔جس طرح مثلاً انسان کی نشو و نما کے لئے جس حد تک اس کی ذمہ داری