انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 18 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 18

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۸ سورة الفاتحة وہ ربوبیت کے اس دور میں گزررہی ہے مثلاً ہیرا بنتا ہے شاید لاکھوں سال اس پہ گزرتے ہیں تب وہ ہیرے کی شکل اختیار کرتا ہے درجہ بدرجہ اس میں تبدیلیاں ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہی مٹی کے ذرات جو آپ لوگوں کی جوتیوں کے تلوے کے نیچے حقیر اور بے قیمت ہوتے ہیں وہی ذرے ہیرے کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام نے رب کا تخیل جو ہمیں دیا ہے وہ یہ نہیں کہ اللہ نے پیدا کیا اور پھر آرام کرنے لگ گیا یا دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا اور پیدائش کے ساتھ جو پہلے کر چکا ہے اس کا ہر وقت زندہ تعلق قائم نہ رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی جو صفت ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک چھوٹے سے فقرے میں بڑی بنیادی چیز ہمیں بتائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ربوبیت کا فیضان تمام کائنات کی جان ہے پھر فرماتے ہیں ایک لمحہ کے لئے یہ فیضان منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے تو اس نے پیدا کیا، نشوونما کے سامان پیدا کئے اور ہر وقت ایک زندہ تعلق اپنی مخلوق کے ساتھ اس نے قائم رکھا ہے اگر ربوبیت کا یہ تعلق ایک لحظہ کے لئے بھی منقطع ہو جائے مخلوق کے ساتھ تو وہ قائم نہ رہے جس طرح وہ نیست سے ہست ہوئی تھی بہت سے نیست ہو جائے فنا ہو جائے فوری طور پر۔تو رب کا تعلق ہر وقت، ہر آن، ہر چیز سے ہے جس کو اُس نے پیدا کیا ہے۔یتعلق انسان کے ساتھ بھی ہے اور انسان کو اس نے بڑی استعدادیں دیں اور اپنے قرب کے لئے اس نے اسے پیدا کیا اور اپنی صفات کا مظہر بننے کی قابلیت اس کے اندر رکھی اور ہم دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان کو بحیثیت ایک نوع کے ایک بڑے ہی نچلے درجے سے آہستہ آہستہ اٹھا کر اس نے اس مقام پر پہنچایا کہ جہاں انسان کامل کی پیدائش ممکن ہو سکتی تھی اور انسان کامل کی پیدائش کر دی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور ایک کامل کتاب آپ کے ذریعہ بنی نوع انسان کو ملی۔انسانی شعور اور انسانی عقل آپ کے زمانے میں اپنے کمال کو پہنچا اور اس کمال کو قائم رکھنے کے لئے دنیا کی تدبیر، جس طرح اور تدبیریں اس نے کیں ، قرآن کریم کی شکل میں انسان کو دی کہ اگر اسی پر انسان غور کرتا رہے اور اس کے احکام کی پیروی کرے تو انسان کی عقل بھی اپنے معراج پر قائم رہے گی اور اس کی روحانیت بھی اپنی رفعتوں سے نیچے نہیں گرے گی۔رب کی جور بوبیت ہے اس کے جلوے انسان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور مٹی کے ذرات سے بھی