انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 226

۲۲۶ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہے کہ تمہاری انتہائی منزل ابھی نہیں آئی۔آؤ میں تمہیں اس سے بھی آگے لے جاؤں۔پھر وہ تمہارا ہاتھ پکڑتا ہے اور انگلی ہدایات کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اپنے قرب کی نئی راہیں تم پر کھولتا ہے۔تو فرمایا کہ اتنی عظیم الشان کتاب کو ہم نے رمضان شریف میں نازل فرمایا ہے۔ھدی للناس میں ایک بڑا ز بر دست دعوئی پیش کیا گیا ہے۔فرمایا کہ اب یہی ایک کتاب ہے جس پر عمل کر کے تمہارا انجام بخیر ہوسکتا ہے اور تم جنّت موعودہ کو پاسکتے ہو۔دنیا کی دوسری تعلیمیں فلسفیانہ ہوں یا مذہبی، ان کے اندر کچھ ایسی باتیں تو ضرور پائی جاتی ہیں کہ جن پر عمل کر کے ہم اس دنیا میں ترقی کر سکتے ہیں لیکن یہاں فرمایا کہ قرآن کریم کے علاوہ دنیا میں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں جو انسان کی ضرورتوں کو اس طور پر پورا کر سکے کہ اس کی اُخروی زندگی بھی اس کیلئے جنت بن جائے۔یہ صرف قرآن کریم ہی ہے جس کے ذریعہ انسان کا انجام بخیر ہوتا ہے اور اس کو جنت نصیب ہوتی ہے۔پھر فرمایا وَ بَيِّنةٍ مِنَ الْهُدی یعنی جب قیامت تک تمام بنی نوع انسان کے لئے یہ قرآن مجید ہدایت ہے۔اور دوسری جگہ ہمیں اسلامی تعلیم میں یہ بھی ملتا ہے کہ انسان اس دنیا میں نسلاً بعد نسل ہر لحاظ سے ترقی کرتا چلا جائے گا۔اس کا علم بھی، اس کی عقل بھی اور اس کا انداز فکر بھی ترقی کی راہ پر چلتا چلا جائے گا۔تو آخر ایسا زمانہ آجائے گا کہ جب انسان یا انسانوں میں سے اکثر حصہ محض دین العجائز پر قانع نہیں رہے گا بلکہ وہ کہے گا کہ ہم نے مان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور کہ اس پر ہمیں عمل بھی کرنا ہے لیکن ہمیں تسلی نہیں جب تک کہ ہمیں اس حکم کی حکمتیں نہ بتائی جائیں اور دلائل نہ سمجھائے جائیں وغیرہ وغیرہ گویا اس میں ایک پیشگوئی بھی مضمر تھی۔تو فرماتا ہے کہ اس تعلیم میں جہاں جہاں دعویٰ پیش کیا گیا ہے اس کے عقلی دلائل بھی پیش کر دیئے گئے ہیں جہاں کہیں حکم دیا گیا ہے ساتھ ہی اس کی حکمتیں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔انسانی دماغ خواہ ترقی کی کتنی منازل طے کرتا چلا جائے خواہ کتنے ہی بلند مقام پر پہنچ جائے۔بہر حال وہ قرآن کریم کا محتاج رہے گا۔وَالْفُرْقَانِ اور اس قرآن میں ایسے نشانات اور دلائل رکھے گئے ہیں جو حق اور باطل کے درمیان امتیاز قائم کر دیتے ہیں حتی کہ کوئی اشتباہ باقی نہیں رہتا جیسا کہ خود انہی آیات میں اللہ تعالیٰ نے