انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 225
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۲۵ سورة البقرة انسان کو قیامت تک بحیثیت ایک شریعت کا ملہ فائدہ اور برکت پہنچاتی رہے گی۔ایک معنی ہدایت کے یہ بھی ہیں کہ یہ کتاب بنی نوع انسان پر ٹھونسی نہیں گئی بلکہ اس میں انسانی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق لوگوں کو عبادات اور اعمال صالحہ بجالانے کا طریق بتایا گیا ہے۔مطلب یہ ہوا کہ یہ شریعت جو انسان کے لئے نازل کی گئی ہے وہ اس کی استعدادوں، صلاحیتوں اور قابلیتوں کو مد نظر رکھ کر نازل کی گئی ہے۔اور قیامت تک انسان میں جو جونئی سے نئی قابلیتیں پیدا ہوتی رہیں گی وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔کیونکہ ہم عالم الغیب ہیں۔اس لئے آج کے انسان سے لے کر اس آخری انسان تک جو اس دنیا میں پیدا ہو گا۔اور ملک عرب سے لے کر تمام ان ملکوں کی اقوام تک جو اکناف عالم میں آج موجود نہیں یا آئندہ پیدا ہوں گی ان سب کی صلاحیتوں اور استعدادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ عظیم الشان کتاب بنی نوع انسان کے ہاتھ میں دی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ قرآن ہے۔اتنا عظیم الشان قرآن کہ جس کا تعلق ہم نے ماہ رمضان کے ساتھ بڑی مضبوطی سے قائم کر دیا ہے۔پھر ھدی للناس میں یہ بھی فرمایا کہ قرآن کریم صرف انسانی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق ہی نہیں بلکہ اس میں ایک یہ بھی خوبی پائی جاتی ہے کہ بندے کی ہدایت کو درجہ بدرجہ بڑھاتا چلا جاتا ہے کیونکہ جس طرح ایک طالب علم پہلی جماعت کا نصاب ختم کرنے کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ دوسری جماعت میں بیٹھے اور دوسری جماعت کا نصاب ختم کرنے کے بعد وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ تیسری جماعت میں بیٹھے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے جو نیک بندے ہیں جب وہ ہدایت کے ایک درجہ پر پہنچتے ہیں اور الہی احکام کو بجالاتے ہوئے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیتے ہیں کہ اس درجہ کی ہدایات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درجہ کو اور بلند کر دیتا ہے اور ہدایت کی نئی راہیں ان پر کھولتا ہے۔تو ہدایت کے معنوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ مزید ہدایت کی جو خواہش یا استعداد پیدا ہو جاتی ہے اس کے مطابق مزید ہدایت کے سامان بھی اس میں موجود ہیں۔پس فرمایا کہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں بلکہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ صرف ایک دفعہ ہدایت دے کر پھر پیچھے ہٹ کر کھڑی نہیں ہو جاتی بلکہ ہمیشہ تمہیں اس کی ضرورت رہتی ہے۔جتنی جتنی تم ایمان اور عرفان میں ترقی کرتے جاتے ہو۔قرآن کریم تمہیں اس سے آگے ہی راستہ دکھاتا چلا جاتا ہے اور کہتا