انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 17

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۷ سورة الفاتحة مطابق میری تدبیر کا نتیجہ نہیں نکلا بیبیوں خطوط مجھے آتے رہتے ہیں پوری کوشش کرتے ہیں اپنی سمجھ کے مطابق لیکن جس قسم کی تجارت بھی کرتے ہیں اس میں ناکام ہو جاتے ہیں اور سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے۔تو تد بیر کرنا انسان کے لئے ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اسباب کی دنیا بنایا ہے اور انسان کو بہت سی قوتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں جس کے نتیجہ میں وہ تدبیر کر سکتا ہے اسی لئے وہ اس قابل ہے کہ تدبیر کرے، وہ کام کرے، وہ محنت کرے، وہ سوچے، وہ اپنی عقل سے کام لے، وہ کامیابی کے بہترین طریقے جو ہیں ان پر چلے لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعد اگر وہ یہ سمجھے کہ جس طرح ایک اور ایک مل کے دو بن جاتے ہیں اسی طرح میری تدبیر اور دعا کا ضرور نتیجہ نکلے گا تو وہ غلطی پر ہوتا ہے اور اپنی دنیا میں اس ٹھوس اور مادی دنیا میں ساری تدبیروں کو بے نتیجہ ہوتے ، ساری دعاؤں کو رڈ ہوتے وہ دیکھتا ہے ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوجہ کیا ہے کہ خدائے رحمن کی طرف متوجہ ہو جائیں یعنی اپنے پر ایک قسم کی موت وارد کر کے اس کے حضور جھکو ( اور یہ دعا عام دعاؤں کی قسم کی نہیں ہوتی ) اور اس سے کہو اے ہمارے رحمن ربّ! تو نے ان گنت اور بے شمار نعمتیں ہمارے لئے پیدا کیں اور ہمارے عمل کو اس میں کوئی دخل نہیں تھا کیونکہ وہ پیدائش سے بھی پہلے وجود میں آچکی تھیں ان اسباب ان نعمتوں سے آج ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو اٹھا نہیں سکتے ہم اگر تیری رحیمیت کا جلوہ دیکھنے کے قابل نہیں تو اے رحمان خدا! ہمیں اپنی رحمانیت کا جلوہ دکھا۔ان دو کے علاوہ دو اُمہات الصفات ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔ایک پہلی صفت جو ربوبیت کی صفت ہے اور ایک چوتھی صفت جو مالکیت یوم الدین کی صفت ہے۔یہ چار صفات ایسی ہیں جن کے جلووں کا تعلق پیدائش عالم سے لے کر جزا سزا کے دن تک پھیلا ہوا ہے۔ربوبیت کی صفت جلوہ گر ہی اس وقت ہوتی ہے جب پیدائش شروع ہو جائے جب خالق خلق کرتا ہے اور وہ تمام سامان پیدا کرتا ہے کہ اس کی مخلوق ان استعدادوں کو اپنے کمال تک پہنچا ئیں جو اس نے ان کے اندر رکھی ہیں خصوصاً انسان کے اندر بڑی استعداد میں اور قوتیں اس نے رکھی ہیں اور بڑی طاقتیں اس میں ودیعت کی ہیں تو ربوبیت کا جلوہ پیدائش کے وقت سے شروع ہو گیا۔کیونکہ ربّ کے معنی ہیں خالق، پیدا کرنے والا۔جو بہت سی قوتیں اور استعدادیں بھی ہر چیز میں پیدا کرتا ہے اور درجہ بدرجہ ان کو نشو و نما کرتے ہوئے اس چیز کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے دنیا کی ہر چیز جو ہے