انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 213
تفسیر حضرت خلیفہ لمسح الثالثة امسح ۲۱۳ سورة البقرة ہے۔لباس سردی گرمی سے حفاظت کرتا ہے۔لباس زینت بنتا ہے۔لباس کے متعلق خود قرآن کریم نے دوسری جگہ بہت سے فوائد بتائے ہیں۔یہاں روحانی فوائد مراد ہیں اور صرف اتنا کہا ہے کہ تم ان کے لئے لباس اور وہ تمہارے لئے لباس۔اکیسویں بات یہ بتائی گئی کہ کھاؤ پیوروزہ کھولنے کے بعد کوئی پابندی نہیں یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔شروع میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بعض ایسے مخلص مسلمان تھے ( پوری طرح احکام ابھی واضح نہیں تھے ) کہ جب روزوں کا حکم ہوا تو انہوں نے روزے سے روزہ ملانا شروع کر دیا یعنی دو دن کا روزہ اکٹھا رکھ لیا اور بہت زیادہ تنگی میں اپنے آپ کو ڈالا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کیا۔اب یہ حکم ہے کہ روزہ کھولنے کے بعد سحر تک جوسحری بند ہونے کا وقت ہے جس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں روشنی کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگ جاتی ہے کہتے ہیں اس وقت تک کھاؤ پیوا اپنی ضرورت کے مطابق۔یہ نہیں کہ اسراف کرو۔اپنی ضرورت کے مطابق ہر شخص کھائے اور پئے۔کسی کی دو چھٹانک کی ضرورت ہے ممکن ہے کسی کی ایک سیر کی ہو جائے لیکن بہر حال کہا ہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق کھاؤ اور پیو صبح تک۔اور بائیسویں یہ بتایا کہ اس کے بعد جس وقت سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے اس کے بعد رات تک غروب آفتاب تک روزوں کی تکمیل کرو۔ادھورے روزے نہیں جس طرح چڑی روزہ بچے رکھا کرتے ہیں یعنی دن میں چار پانچ روزے بالغ مسلمانوں کے لئے وہ روزے " نہیں ہیں۔تنمیسویں یہ ہے کہ اعتکاف کی حالت میں رات کو بھی بیویوں کے پاس نہ جاؤ اور یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے بنیادی باتیں بیان کرنی شروع کیں۔اور چوبیسویں یہ بتایا کہ یہ جو میں نے حکم نازل کئے ہیں ان کو ایسا سمجھو کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے قائم کردہ حدود ہیں۔ان کے قریب بھی مت جاؤ۔بعض لوگ دیر بعد سحری شروع کرتے ہیں اور دیر تک کھاتے رہتے ہیں اور حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔یہ تو صحیح ہے کہ ایک مؤذن مدینہ میں کوئی آدھ منٹ یا ایک منٹ پہلے صبح کی اذان دے دیتے تھے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ