انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 211

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث جہاد اور مجاہدہ ہو۔۲۱۱ سورة البقرة اور بارھویں یہ ہے کہ ہدایت کی نئی راہیں کھولنے والے دلائل ہیں۔دوسرے نئی راہوں کی ضرورت پڑتی ہے نئے زمانوں کے ساتھ۔ہر زمانہ نئے مسائل انسان کے سامنے رکھتا اور نئے علوم قرآنی کا تقاضا کرتا ہے تو پچھلے دروازے پچھلی راہیں بند ہو جاتی ہیں آگے نہیں چلتیں۔انسان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے انسان کا ساتھ نہیں دے رہی ہوتیں۔نئی راہیں کھلنی چاہیے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کے ایسے محبوب بندے اُمت محمدیہ میں موجود رہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے نئے علوم روحانی سیکھ کر ہدایت کی نئی راہوں کا علم حاصل کر کے زمانہ کے نئے مسائل کو حل کرنے کا سامان پیدا کرتے ہیں۔اور تیرھویں ہمیں یہ بتایا گیا کہ قرآن کریم ایک ایسی عظیم کتاب ہے کہ اس کے ساتھ محض دلائل کا یا تعلیم کا ، ہدایت کا ہی تعلق نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فرقان بھی اس کو دیا گیا اور اس کے ساتھ الہی نشان بھی ہیں۔پہلے کہا گیا تھا کہ روزے تم پر فرض کئے گئے جس طرح پہلوں پر فرض کئے گئے۔اب چودھویں بات ہمیں یہ بتائی گئی کہ تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ رمضان کے روزے رکھو امر کے صیغہ میں۔پہلے فرضیت بتائی تھی، اب حکم کا رنگ ہے۔تمہیں حکم ہے کہ رمضان کے روزے رکھو۔اور پندرھویں یہ کہ اگر عارضی وقتی بیماری ہو۔پہلے جس بیماری کا ذکر تھا وہ دائی تھی جب روزہ رکھنے کی طاقت ہی جاتی رہتی ہے لیکن اب یہ ذکر ہے کہ عارضی طور پر انسان بیمار ہو جاتا ہے مثلاً بہت ساری بیماریاں ہیں ایک کو بطور مثال کے لے لیتے ہیں۔رمضان سے دو چار دن پہلے آٹھ دس دن پہلے اگر کسی نوجوان بالغ کو ٹائیفائیڈ ہو جاتا ہے ڈاکٹر اس کو کہے گا تم روزہ نہیں رکھ سکتے تو اگر وقتی بیماری ہو تو تعداد جو ہے، جتنے چھٹ گئے مثلاً بیماری جو ہے وسط رمضان میں بھی آسکتی ہے شروع میں بھی آسکتی ہے پہلے بھی آسکتی ہے۔کچھ روزے بھی چھڑوا سکتی ہے۔سارے روزے بھی چھڑوا سکتی ہے تو جو تعداد رہ گئی ہے وہ تعداد اور دنوں میں پورا کرو اور تمہیں ثواب رمضان کے روزوں کا ہی ملے گا یہ شان ہے اسلامی تعلیم کی۔اگر وقتی بیماری ہے اور عذر صحیح ہے اور نیت میں اخلاص ہے تو دوسرے وقت میں ماہ رمضان سے باہر جو تم فرض روزے پورے کر رہے ہو گے تمہیں تو اب وہی ملے گا جو رمضان کے دوران روزہ رکھنے والوں کو ثواب ملے گا اور اگر مسافر ہو تب بھی اور دنوں میں تعداد پوری کرنا واجب ہے۔