انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 209

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۰۹ سورة البقرة تھیں اور تمہاری کچھ اور ہیں۔ان کے روزے کے اوقات کچھ اور تھے تمہارے کچھ اور ہیں۔اس واسطے یہ الفاظ کر دیئے کہ جو تمہیں کہا گیا اس اس کے مطابق گنتی کا پورا کرنا فرض ہے اور جو ان کو کہا گیا اس کے مطابق ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ گنتی کو پورا کریں۔جو دائم المریض ہوں۔یہ دو جگہ آیا ہے دو آیتوں میں۔مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ پہلى آیت میں جو مریض کا لفظ ہے اس سے مراد دائم المریض ہے اور اس کی طرف اشارہ کرتا ہے آیت کا یہ اگلا ٹکڑا کہ جو روزے کی طاقت کھو بیٹھے ہوں کیونکہ اطاق يُطِيقُ باب افعال جو ہے اس کی ایک خاصیت سلب کی ہے تو جو روزہ رکھنے کی طاقت کھو بیٹھے ہوں یعنی روزہ رکھ ہی نہ سکتے ہوں وہ روزہ نہ رکھیں اور اگر طاقت رکھتے ہوں تو ہر روزہ کے بدلہ میں بطور فدیہ کے طَعَامُ مِسکین چوبیس گھنٹے کا کھانا جو ہے وہ فدیہ کے طور پر دیں۔یعنی وہ لوگ جن کی طاقت کمزور ہوگئی ہے، ان کا روزہ نہ رکھنا کیونکہ ایک اجتہادی امر ہوگا۔یہ فیصلہ تو ہر شخص نے خود کرنا ہے کہ میں اتنا کمزور ہو چکا ہوں۔بیماریوں کی کثرت کے نتیجہ میں یا عمر کی زیادتی کے نتیجہ میں یا ڈاکٹروں کے مشورہ کے نتیجہ میں کہ اب مجھ میں روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی۔زیادہ لمبا فاقہ نہیں میں کر سکتا۔تو یہ اجتہاد ہوگا اور جب اجتہاد ہوگا تو اجتہادی غلطی کا بھی امکان ہوگا۔جب اجتہادی غلطی کا امکان ہوگا تو اس نامعلوم یا غیر محسوس گناہ پر مغفرت کی چادر ڈالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انتظام کیا ہے کہ طَعَامُ مِسکین بطور فدیہ کے دے دیا کرو۔کہ اگر تو اجتہادی امر ہے اس میں غلطی نہیں مزید تو اب تمہیں مل جائے گا اور اگر اجتہادی امر جو ہے اس میں غلطی ہے کچھ تو خدا تعالیٰ اس طرح تمہاری مغفرت کر دے گا۔ایک اور ذریعہ سے تم اس کے فضل کو حاصل کرنے والے ہو گے۔اور چھٹے یہ کہ اگر سفر پر ہو تو روزہ نہ رکھو۔ساتویں یہ کہ اصل چیز یہ ہے کہ نیت یہ ہو کہ اللہ تعالی کی پوری اور سچی اور حقیقی فرمانبرداری کرتی ہے۔آٹھویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ روزوں کا حکم تمہاری بہتری کے لئے ہے اب جو درس دینے والے ہیں وہ آپ کو بتا ئیں گے کہ بہتری کی کتنی قسمیں ان کو نظر آئیں۔بے شمار قسمیں ہیں بہتری کی۔نویں بات ہمیں یہ بتائی گئی کہ ماہ رمضان کا دوہرا تعلق قرآن کریم سے ہے۔اس لئے کہ قرآن کریم