انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 208

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۰۸ سورة البقرة شرائط کے ساتھ جن شرائط کے ساتھ روزہ رکھنے کا حکم ہے۔تو روزہ رکھنے کا جو حکم ہے وہ مختلف ہے شریعت ، شریعت میں۔لیکن بنیادی حکم جو ہے وہ ایک ہی ہے کہ اپنی شریعت کے مطابق جو شریعت کے احکام ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائے ہوئے طریق پر روزے رکھو۔دوسرے یہ کہا گیا ہے کہ روزہ رکھنا روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دُور کرنے کا ذریعہ ہے۔تقویٰ پیدا کرتا ہے۔اب ظاہر ہے (پہلا مضمون بھی اس سے واضح ہوتا ہے ) کہ پہلوں کی روحانی کمزوریاں اور قسم کی تھیں اور ان کی اخلاقی حالتیں کچھ اور رنگ رکھتی تھیں۔لیکن انسان ارتقائی مدارج میں سے گزرتا ہوا اس حالت کو پہنچ گیا کہ قرآن کریم کی شریعت کا متحمل ہو سکے تو اب اس کی ضرورت کے مطابق اور اس کی طاقت اور قابلیت اور صلاحیت کے مطابق اس کو قرآن کریم نے حکم دیئے۔پہلی شریعتوں کا بھی مقصد یہی تھا کہ ان کے ماننے والوں کی روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور ہوں۔لیکن ضرورتیں اور تھیں احکام اور تھے اور شریعت محمدیہ کا بھی یہ مقصود ہے کہ ایک ایسے شخص کی جو اُمت محمدیہ کی طرف منسوب ہوتا اور جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو پکڑا ہے اس کی روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور ہوں۔یہ جو کہا گیا کہ روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دُور کرنے کا ذریعہ ہے۔تقویٰ کا ذریعہ ہے اس میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے اس عبادت کے چھلکے پر اگر تم نے اکتفا کیا اور سمجھا کہ یہ کافی ہے اور اس کی روح کو پانا اور اس سے فائدہ اٹھانا ضروری نہیں تو تمہاری روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دُور نہیں ہوں گی تو سوچو اور غور کرو کہ وہ تمام حکمتیں جو قرآن کریم نے بیان کی اور وہ تمام روحانی اور اخلاقی بیماریاں جن کے متعلق کہا گیا کہ قرآن کریم شفا ہے ان کے لئے۔وہ کونسی ہیں اور روزے کے دنوں میں Consciously اور بیدار مغزی کے ساتھ اس عبادت کو اس رنگ میں ادا کرو کہ روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور ہو جائیں اور تم شریعت محمدیہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہو۔تیسرے یہ کہا گیا ہے کہ مقررہ گنتی پوری کرنا فرض ہے۔یہ مضمون پہلی شریعتوں اور شریعت محمدیہ دونوں کے ساتھ Parallel چل رہا ہے۔ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو کہ مقررہ گنتی پوری کرنا ضروری ہے۔جس شریعت میں جس گنتی میں روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ سب شریعتوں میں رمضان کے روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے اس واسطے کہ جہاں پہلوں کا ذکر تھا ان کی گنتیاں کچھ اور