انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 200
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البقرة آزمائش والی مصیبت ان کو دھکا دے کر اور بھی ان کے رب کے انہیں زیادہ قریب کر دیتی ہے اور وہ شیطانی وسوسوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کے وجود کا ذرہ ذرہ یہ پکارتا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم اور ہماری ہر چیز اللہ کی ہے اور اسی کی طرف ہم نے لوٹ کے جانا اور اسی سے ہم نے اس کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے۔اور چوتھی بات یہاں یہ فرمائی کہ اگر تم اپنے امتحان میں پورے اُتر و گے توایسوں پر ہی اس کی رحمت کا نزول ہوتا ہے نمبر ایک أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ (ایسوں پر ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے ) و أولبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ اور ایسے ہی ان تمام انعامات کے وارث ہوتے ہیں جو ہدایت یافتہ جماعتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کئے ہیں اور جن کی بشارتیں ہمیں قرآن کریم میں نظر آتی ہیں۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۳۳ تا ۳۳۵) فتنه یا آزمائش جس سے مومن آزمائے جاتے ہیں وہ قضاء و قدر کی آزمائش سے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ مومنوں کو قضاء و قدر کی آزمائش میں ڈال کر ان کا امتحان لیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ کہ ہم اپنی مشیت اور اذن سے تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہارے مالوں میں نقصان کی صورت پیدا کر دیں گے۔احمدیت میں بھی جو اللہ تعالیٰ کا سچا سلسلہ ہے ہر روز ایسی مثالیں ملتی رہتی ہیں مجھے کئی خطوط آتے رہتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ ہم احمدی ہوئے تھے مگر بیعت کے بعد ہمیں نقصان ہونا شروع ہو گیا ہے۔اگر یہ لوگ قرآن کریم کی ذرا بھی سمجھ رکھتے ہوں تو وہ فوراً جان لیں کہ یہ نقصان احمدیت کی صداقت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے غلط یا جھوٹا ہونے کی کیونکہ قرآن کریم نے پہلے ہی بوضاحت بتا دیا تھا کہ جب تم ایمان لاؤ گے تو کبھی خدا تعالیٰ تمہارے مالوں میں تنگی پیدا کرے گا اور تمہیں آزمائے گا کہ آیا تم مال کو خدا تعالیٰ پر ترجیح دیتے ہو یا خدا تعالیٰ کی مرضی کو مال پر ترجیح دیتے ہو۔و الانفس اور کبھی یہ کرے گا کہ ادھر تم ایمان لائے اُدھر تمہارا بچہ مر گیا یا کوئی دوسرا رشتہ دار فوت ہو گیا۔اس وقت شیطان آئے گا اور تمہارے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ یہ مذہب جو تم نے اختیار کیا بڑا منحوس ہے۔دیکھوا بھی تم ایمان لائے اور تمہارا بچہ فوت ہو گیا یا تمہاری ماں کا انتقال ہو گیا یا تمہارا باپ چلتا بنا وغیرہ وغیرہ لیکن اگر تم قرآن کریم کو جانتے اور سمجھتے ہو گے تو تم اس آیت کے ماتحت ایک قسم کی