انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 180
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۸۰ سورة البقرة جو چیز بھی اس کا ئنات میں، اس مادی دنیا میں اور جو غیر مادی ہے اس میں بھی ظہور پذیر ہوتی ہے جو عدم سے وجود میں ظاہر ہوتی ہے یعنی پہلے نہیں تھی ہو گئی ، وہ آیت ہے۔۔۔۔۔۔والكتب یہ جو کتاب ہے یہ تو مضمون ویسے ساری دنیا کو ہی اپنے اندر سمیٹنے والا ہے قرآن کریم کی تعلیم جو ہر شعبہ زندگی کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کے متعلق حکم دیا قرآن کریم نے یا قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔مثلاً کھانا، کتنے لوگ ہیں شرم آتی ہے مجھے آپ سے بھی پوچھتے ہوئے کہ آپ سے آپ تو بڑے آگے نکل گئے دین میں لیکن ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے جو کھانے کے متعلق کی سوچتے ہیں کیا ہمیں تعلیم دی اتنی چھوٹی بات که كُل يييييك وكُل مِمَّا يليك اس وقت تھال میں سارے کھاتے تھے کہا دائیں ہاتھ سے کھا اور جو سامنے تیرے کھانا پڑا ہوا ہے پرات میں اسی میں سے لقمہ لو ادھر ادھر بوٹیوں کی تلاش نہ کر دوسرے کو متلی شروع ہو جائے گی۔یعنی اس کو با اخلاق با ادب بنایا دوسرے کو گھن کی تکلیف سے بچایا بڑے احسان کئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت محمدیہ پر۔پہلے اس سے کہہ دیا تھا کہ گندے ہاتھ لے کے۔مثلاً آدمی ورکشاپ میں کام کرتا ہے کوئی اعتراض کی بات نہیں گریس لگی ہوئی ہوتی ہے موبل آئل لگا ہوا ہے موٹر ورکشاپ میں اور اسی طرح ہاتھ دھوئے بغیر آکر وہ خوراک والے شوربے میں سے بوٹیاں یا لقمے لینے شروع کر دے دوسرے آدمی کو گھن آئے گی۔کہا ہاتھ دھو پہلے آئے۔پاکیزگی کے متعلق اتنی تفصیل سے تعلیم دی گئی ہے جسم کے حصے ہیں میں نے اسی مضمون کے سلسلے میں بہت سارے حوالے نکلوالیا کرتا ہوں۔وقت کے لحاظ سے مجھے پتا ہوتا ہے کام نہیں آئیں گے علم بڑھ جاتا ہے زبان کی پاکیزگی ، اب زبان کی پاکیزگی کئی طرح کی ہے کتاب کے متعلق یعنی جو تعلیم قرآن کریم نے دی الکتب ہے ناں اس کی تفاصیل بتا رہا ہوں ، جھوٹ نہ بول، ہر وقت بیچ نہ بول، موقع اور محل کے مطابق بات کر محض سچ نہیں بولنا بلکہ قول سدید کرنا ہے بعض آدمی اس طرح سچ بولتے ہیں وہ تھوڑا سا پیچ دار بھی کر دیتے ہیں اس کو یہ نہیں کرنا اور طبیب کہنا ہے اور قول حمید یعنی ایسی بات کہو منہ سے نکالو اپنے ، معاشرے میں، کہ دنیا تمہاری تعریف کرے منگا لے کر تمہارے پیچھے نہ پڑے ایسے بھی سچ ہیں جو غصہ دلا دیتے ہیں اگلے آدمی کو کیوں دلاتے ہو غصہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے منع فرمایا ہے۔یہ زبان کی پاکیزگی چل رہی ہے دھونے کے علاوہ کسی کی چغلی نہیں کرنی، کسی کی