انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 176
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة البقرة كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَللٍ مُّبِينٍ ( الجمعة : ۳) اور جو چوتھی قرآن کریم کی ترتیب میں بھی آخری موقعے پر یہ دوہرائے گئے ہیں چار مقاصد وہ سورہ جمعہ ہے۔یہ جو ابدی ترقیات کا حصول ممکن ہونا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں یہ خیال گزرسکتا تھا کہ یہ انفرادی طور پر ہوتا ہے اور اس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن سورۃ جمعہ میں امت محمدیہ کے لئے ، اُمت محمدیہ بحیثیت امت محمد یہ ان دائروں میں سے گزرتی چلی جائے گی۔سمجھ نہیں آئے گی ان کو اور دنیا کے بدلے ہوئے حالات میں جو فضل اخَرِينَ مِنْهُم پر نازل ہوں گے وہ بعض پہلوؤں کے لحاظ سے اس میں کہیں خلط کر جائیں کیونکہ پہلوں کو جو ملا ہے۔وہ بڑا عظیم تھا۔وہ بے حد عظیم تھا لیکن بعض پہلوؤں کے لحاظ سے ہر آنے والی نسل پہلوں سے کچھ زیادہ فضل بھی لے رہی ہے اس لئے چودہ سوسال جو گزرے اس کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر صدی نئے مسائل لے کر آتی ہے جب ہر صدی نئے مسائل لے کر آئی ہے تو ان مسائل کو حل کرنے کے لئے جو بطون قرآنی ہیں اور قرآن کریم کے بطون ہر چار چیزوں سے تعلق رکھنے والے ہیں یعنی آیات جو پہلے ظاہر نہیں ہوئیں وہ ظاہر ہونی شروع ہو ئیں کتاب کے معنی جو یعنی اصول اور فلسفہ مثلاً اشتراکیت کے مقابلے میں ہی جا کے بات کرتا ہوں پہلوں کو ضرورت ہی نہیں تھی قرآن کریم کی آیات سے اس استدلال کی جو مجھے آج ضرورت پڑ گئی، میرے رب نے مجھے وہ سکھا دیئے اور حکمت اور حکمت تو اب بہت پوچھتے ہیں جب نیا مسئلہ ہوگا نئے معنی ہوں گے تو نئی حکمت بھی بتانی پڑے گی اور اگر ان تین کے نتیجہ میں نیا تزکیہ ہوگا تو وہ پہلوں سے بہر حال مختلف ہوگا اور پہلے تو معروف ہیں یعنی ہر شخص جانتا ہے تو یہاں کچھ زیادہ مل گیا لیکن اپنی عظمت اور شان کے لحاظ سے وہ جو دیوانہ وار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھومے اور جنہوں نے آپ کی جسم کی بھی حفاظت کی اور آپ کے پیغام کی بھی حفاظت کی ان کے رہتے تو بہت بلند ہیں، اس لئے بھی کہ اس وقت سے لے کے آج تک ہم ان پر بھی درود بھیج رہے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے وقت اور ہماری دعائیں چودہ سو سال کی قبول ہونے والی دعائیں جو ہیں انہوں نے ان کی رفعتوں کو بلند کر دیا ہے اس لحاظ سے وہ بلند ہیں بعض دوسرے پہلوں سے آنے والے زیادہ تزکیہ نفس حاصل کر لیتے ہیں۔بہر حال ان کا مقام ، آنے والوں کا مقام آنے والوں کا مقام ، سورۃ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہے وہ بادشاہ ہے ہر چیز اس کی