انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 175
۱۷۵ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث پنسل سے لگا کے دیکھ لو اپنے کاغذوں کے اوپر ختم ہی نہ ہوگی ختم تو وہ ہوتی ہے جو ایک جگہ آگے آگے ختم ہو گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دماغ میں جس شریعت کا تصور تھا اپنی ، وہ وہ تصور تھا ایک نَصِيبٌ مِّنَ الكتب كامل کتاب کا ایک حصہ ہے ان کے پاس اور آیات ہیں آسمانی نشان ہیں پھر ہدایت ہے چھوٹا سا، اس کی تھوڑی بہت حکمت بھی بیان کی گئی ہے، اس طرح کی نہیں لیکن کچھ نہ کچھ ہے ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق ہے کامل سمجھ کامل فراست کے مطابق نہیں۔پھر اطمینان مل گیا پھر ختم ہو گیا وہ شخص اپنی استعداد کی انتہا کو پہنچ گیا۔اُمت مسلمہ میں کوئی شخص بھی اپنی وقتی استعداد کی انتہا کو پہنچنے کے بعد وہاں ٹھہرتا نہیں کیونکہ جو وقتی استعداد تھی اللہ تعالیٰ کا فضل اس استعداد میں شدت اور وسعت پیدا کرتا ہے اور مزید ہدایت کے قبول کرنے کے سامان پیدا کرتا اور مزید فضلوں کے حصول کے سامان پیدا کر دیتا ہے،اسباب پیدا کر دیتا ہے۔دوسری تین جگہ جہاں آیا ہے جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جہاں آیا ہے کہ خدا نے وہ رسول مبعوث کر دیا کہ جس کے لئے دعا مانگی تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اور جو وہ چار مقاصد لے کے آ گیا جن چار مقاصد والے رسول کے لئے دعامانگی تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہ تو ایسا رسول ہے، فرق کر دیا پہلے سے کہ جس کے متبعین جو ہیں وہ غیر محدودترقیات کے وارث بن سکتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت شامل حال ہو۔۔۔۔۔۔۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تزکیہ نفس آخری پوائنٹ پر ختم کر دیا تھا۔شریعت محمدیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ وقت نازل ہونے والے فرزند کے نتیجہ میں اس چکر کی وجہ سے ہمیشہ ترقیات، ابدی ترقیات کا حصول ممکن ہو گیا اور ترتیب کا بدلنا ضروری ہو گیا۔جیسا کہ میں نے کہا اس میں جو آل عمران ہے اس میں (چیک کرلوں ) یہ جو میں نے بتایا ناں فرق جو ہے یہ اس وجہ سے ہے اس کو خود الفاظ میں بھی ظاہر کیا ہے تینوں جگہ دوسری جانب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہو جانے کا ذکر ہے ان تینوں جگہ پہ ہے کہ تمہیں وہ دیا جاتا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔یہی میں نے بتایا ہے ناں۔تزکیہ آپ آتا ہے پھر وہ چیز دی جاتی ہے جو پہلے ان کے پاس نہیں تھی پھر ایک نیا دور شروع ہوتا ہے، پھر ایک نیا دور شروع ہوتا ہے کیونکہ ہر دور کے بعد يُعلمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ اور وَإِنْ