انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 169
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۶۹ سورة البقرة پس آرنا مناسگنا میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا اس کا تعلق دنیا کی ساری اقوام سے ہوگا اور ہر زمانہ سے ہوگا۔پس دعا کرتے رہو کہ اے ہمارے رب قوم قوم کی ضرورتوں اور طبیعتوں میں فرق اور زمانہ زمانہ کے مسائل میں فرق کے پیش نظر شریعت ایسی کامل اور مکمل بھیجنا کہ جو ہر قوم کے فطرتی تقاضوں کو پورا کرنے والی ہو اور ہر زمانہ کے مسائل کو وہ سلجھانے والی ہو۔قیامت تک زندہ رہنے والی ہوتا جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی ہے وہ پوری ہو۔بائیسویں غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تب عَلَینا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو آخری شریعت یہاں نازل کی جائے گی اس کا بڑا گہرا تعلق آپ تواب سے ہوگا اور اس شریعت کے پیرو اس حقیقت کو پہچاننے والے ہوں گے کہ تو بہ اور مغفرت کے بغیر معرفت کا حصول ممکن نہیں ہے اس لئے وہ بار بار اس کی راہ میں قربانیاں بھی دینے والے ہوں گے اور بار بار اس کی طرف رجوع بھی کرنے والے ہوں گے اور کہیں گے کہ اے خدا! ہماری خطاؤں کو معاف کر دے۔وہ ایسی قوم ہوگی کہ جو نیکی کرنے کے بعد بھی اس بات سے ڈر رہی ہوگی کہ کہیں ہماری نیکی میں کوئی ایسا رخنہ نہ رہ گیا ہو جس سے ہمارا رب ناراض ہو جائے وہ ہر وقت استغفار اور تو بہ میں مشغول رہنے والی قوم ہوگی۔تیسواں مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ کہ ہم محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مولد اسے بنانا چاہتے ہیں ہم اسے ایسا مقام بنانا چاہتے ہیں کہ جس کے ماحول میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ ، عاجزی اور انکسار کے ساتھ عشق اور محبت کے ساتھ کی گئیں دعاؤں کے نتیجہ میں ہم اپنے ایک عبد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو محمدیت کے مقام پر کھڑا کریں گے اور اس کے ذریعہ سے ایک ایسی شریعت کا قیام ہوگا اور ایک ایسی اُمت کو جنم دیا جائے گا کہ جو زندہ نشان اپنے ساتھ رکھتی ہوگی يَتْلُوا عَليهم اليك اور زندہ خدا کے ساتھ اور زندہ نبی کے ساتھ اور زندہ شریعت کے ساتھ ان کا تعلق ہو گا اور ان کو کامل شریعت کا سبق دیا جائے گا لیکن ناسمجھ بچوں کو جس طرح کہا جاتا ہے ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ ہم کہتے ہیں اور تم مانو۔اللہ تعالیٰ ان کی عقل اور فراست کو تیز کرنے کے لئے اپنے احکام کی حکمت بھی ان کو بتائے گا اس نبی کے ذریعہ اور اس طرح وہ کچھ ایسے پاک کر دئے جائیں گے کہ اس قسم کی پاکیزگی کسی پہلی قوم کو حاصل نہ ہوئی ہوگی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہماری عقل بھی تسلیم کرتی ہے کیونکہ اگر پہلی امتوں پر نسبتاً ناقص شریعتوں کا نزول ہوا اور اس ناقص