انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 168

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۶۸ سورة البقرة اس رنگ میں بعض دعاؤں کا رڈ ہو جانا یا بعض دعاؤں کا اس شکل میں پورا نہ ہونا جس رنگ میں کہ وہ کی گئی ہیں یہ ثابت نہیں کرے گا کہ خدا سمیع نہیں ہے یا قادر نہیں ہے بلکہ وہ یہ ثابت کرے گا کہ خدا تعالیٰ ہی کی ذات علام الغیوب ہے۔تو خانہ کعبہ کی بنیاد اس لئے رکھی گئی کہ خدا تعالیٰ کے بندے خدائے علیم سے متعارف ہو جائیں اور اس کو جانے لگیں اور پہچانے لگیں۔بیسویں غرض یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَكَ یعنی اُمّتِ مسلمہ ہماری ذریت میں سے بنائیو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتایا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف مبعوث ہوں تو آپ کی قوم اُمَّةٌ مُسلِمَةٌ بننے کی اہلیت رکھتی ہو اور ابراہیمی دعاؤں کے نتیجہ میں وہ اُمَّةً مُسْلِمَةٌ بن بھی جائے گی اور اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ نبی جس کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ مکہ میں پیدا ہو گا مگر تم دعا کرتے رہو کہ اے خدا ! ہماری اور ہماری نسلوں کی کسی غفلت اور کوتا ہی کے نتیجہ میں کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے نزدیک ہم اس قابل نہ رہیں کہ وہ وعدہ ہمارے ساتھ پورا ہو بلکہ کسی اور قوم میں وہ نبی مبعوث ہو جائے تو فرمایا میری اولاد کو ہی اُمت مسلمہ بنانا۔پہلے مخاطب وہی ہوں اور سب کے سب قبول کرنے والے بھی وہی ہوں۔پس یہاں یہ بتایا ہے کہ وہ اُمت جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی ذریت سے پیدا ہونے والی ہے وہ اُمت مسلمہ بنے۔اس نبی کا انکار نہ کرے۔اس نبی پر ایمان لا کر جو ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر پڑیں وہ ان کو نباہنے کی قوت اور استعدا در رکھنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کو ایسی ہی قوم بنانا چاہتے ہیں اور اسی غرض سے ہم نے خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر کروائی ہے۔اکیسواں مقصد یہاں یہ بیان فرمایا کہ آرنا مناسگنا اس میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ مکہ معظمہ سے ایک ایسا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہو گا جو دنیا کی طرف اس وقت آئے گا جب وہ اپنی روحانی اور ذہنی نشوونما کے بعد ایسے مقام پر پہنچ چکی ہوگی کہ وہ کامل اور مکمل شریعت کی حامل بن سکے۔ایسی شریعت جس میں پہلی شریعتوں کے مقابلہ میں لچک ہے۔ایسی شریعت جس میں مناسب حال عمل کرنے کی تعلیم دی گئی ہو اور ایسی شریعت جو ہر قوم اور ہر زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو۔آرنا مناسگنا ہمارے مناسب حال جو کام اور جو عبادتیں ہیں جو ذمہ داریاں ہیں وہ ہمیں دکھا اور سکھا۔یعنی قرآنی شریعت کو ہم پر نازل فرما۔