انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 159 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 159

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۵۹ سورة البقرة ہیں وہ۔ان کفار کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور ان کی نافرمانی تجھے کوئی نقصان نہیں دے گی یعنی جو ان کی نافرمانی ہے، خود ان کو اس کا نقصان پہنچے گا تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور نہ ہی تجھ سے اس کے متعلق پوچھ کچھ ہوگی۔جیسے کہ خدا تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ تیرا فرض تو تبلیغ ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے اور ایک اور جگہ فرمایا کہ اس رسول پر وہ کام کرنا ضروری ہے جو اس کے ذمہ لگایا گیا اور تم پر وہ کام کرنا ضروری ہے جو تمہارے ذمہ لگایا گیا۔نمبر دو کہتے ہیں کہ دوسرے اس کا مطلب یہ ہے کہ تو ہدایت دینے والا ہے۔ہدایت دینے والا دعوت دینے والا، ہدایت پہنچا دینے والا ہے ان تک اور اس معاملہ میں تیرا کوئی اختیار نہیں یعنی اس معاملہ میں کہ وہ مانتے ہیں کہ نہیں تیرا کوئی اختیار نہیں۔پس تو ان کے کفر اور دوزخ میں جانے کی وجہ سے غم نہ کر۔اس مطلب کی ایک دوسری آیت بھی ہے جس میں فرمایا کہ تیری جان ان پر افسوس کرتے ہوئے ضائع نہ ہو جائے۔تیسرے فرمایا کہ تو موجودہ وقت میں مطیع اور نا فرمان کا خیال نہ کر حالات بدلتے رہتے ہیں۔انہی میں سے تو پھر مسلمان ہو گئے۔پھر وہ کہتے ہیں اس آیت سے ایک اور بات کا بھی پتا چلتا ہے وہ یہ کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے نہ پوچھا جائے گا اور نہ ہی کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے اس کا مؤاخذہ ہو گا خواہ وہ گنہگار قریبی ہو یا قریبی نہ ہو۔وو ابن جریر ایک مشہور مفسر ہیں اپنی تفسیر جامع البیان میں وہ لکھتے ہیں۔وَ مَعْلَى قَوْلِهِ جَلَّ شَانُهُ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا إِنَّا أَرْسَلْنَكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْإِسْلَامِ الَّذِي لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ غَيْرَهُ مِنَ الْأَدْيَانِ وَهُوَ الْحَقُّ مُبَشِّرًا مَنِ اتَّبَعَكَ فَأَطَاعَكَ وَ قَبِلَ مِنْكَ مَا دَعَوْتَهُ إِلَيْهِ مِن الْحَقِّ بِالنَّصْرِ فِي الدُّنْيَا وَ الظَّفَرِ بِالثَّوَابِ فِي الْآخِرَةِ النَّعِيمِ الْمُقِيمِ فِيْهَا وَ مُنْذِرًا مَنْ عَصَاكَ فَخَالَفَكَ وَرَدْعَلَيْكَ مَا دَعَوْتَهُ إِلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِالْخِزْيِ فِي الدُّنْيَا وَالنَّلِ فِيْهَا وَالْعَذَابِ الْمُهِيْنِ فِي الْآخِرَةِ ( وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحب الْجَحِيم ) وہ کہتے ہیں اس کے معنے ہیں يَا مُحَمَّدُ إِنَّا اَرْسَلْنَك بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَبَلَّغْتَ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ وَ إِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَالْإِنْذَارُ وَلَسْتَ مَسْئُولًا عَمَّنْ كَفَرَ مَا آتَيْتَهُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَحِيمِ “ ( تفسیر جامع البیان) وہ کہتے ہیں کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تجھے اس دین اسلام کے ساتھ بھیجا ہے جس کے سوا میں کسی اور دین کو کسی سے قبول نہیں کروں گا اور دینِ اسلام