انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 143 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 143

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۴۳ سورة البقرة اور سرور حاصل کرے۔اسی طرح میرے کانوں کی شنوائی بھی تیری رحمت کی محتاج اور میرے حواس کی جس بھی تیرے فضل کے بغیر زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی۔اے خدا ! تو نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔تو قادر وتوانا ہے اور بہت کچھ دے سکتا ہے۔ہماری امیدوں سے بھی زیادہ، ہماری توقعات سے بھی زیادہ، ہمارے تخیل اور تصور سے بھی زیادہ دے سکتا ہے۔ہمیں جو کچھ بھی مل سکتا ہے، وہ تیری رحمت کے طفیل ہی مل سکتا ہے۔ہم تیرے حضور جھکتے اور تیری رضا کی خاطر اور تیرے وصال کے لئے تیری محبت پانے کے لئے ہم اپنے اوپر ایک موت وارد کرتے ہیں۔اے زندہ اور زندگی بخش ! تو ہماری اس موت کو اپنی راہ میں قبول کر اور ہمیں وہ زندگی دے جس پر فرشتے بھی رشک کریں۔۔۔۔۔۔دوسرا امتیازی نشان الہی جماعتوں اور ان جماعتوں کے افراد میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ عبد محسن ہوتے ہیں۔ان میں سے ہر شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں تمام شرائط کے ساتھ اعمالِ صالحہ کو بجالانے والا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان کرنے والا ہوتا ہے۔احسان کے لفظ کو جب دوسروں پر احسان کے معنوں میں استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو حقوق دیئے تھے، وہ اپنے یہ حقوق بھی اپنے بھائیوں کو دے دیتا ہے اور اسی طرح اپنے حق سے کم لینے پر اس لئے تیار رہتا ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی رضا مل جائے اور پھر احسان کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے ہر فرد واحد کے جو حقوق قائم کئے ہیں، انسان ان حقوق سے زیادہ دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ایسا شخص محسن ہوتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے۔قرآن میں آیا ہے کہ محسنوں سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے۔یہ وہ محسن ہوتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔پس جب ہم عبد مسلم بننے کے بعد عبد محسن بھی بن جائیں ( یا مجھے شاید یوں کہنا چاہیے کہ ) عبدِ مسلم بنے بغیر کوئی شخص حقیقی معنے میں محسن نہیں بن سکتا، اس لئے عبد مسلم بھی بنے اور عبد محسن بھی بنے اور خدا تعالیٰ کے بندوں سے پیار کرنے لگے اور ان کے لئے اپنے حقوق کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور اُن کے اللہ تعالیٰ نے جو حقوق قائم کئے ہیں اُن سے زائد دینے کے لئے تیار ہو جائے تو یہ وہ محسن ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ - (العنكبوت : ۷۰ ) غرض جسے اللہ تعالی کی معیت