انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 142

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۴۲ سورة البقرة حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے اجر پاؤ گے دیکھو دنیا میں کوئی ایسا معاشرہ یا کوئی ایسا نظریہ یا کوئی ایسی جدو جہد نہیں جس کا یہ دعویٰ ہو کہ ہم غریب کو اس کا حق دلاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ سے ہمیں اجر ملے گا۔کمیونزم کیپیٹل ازم یا دوسرے جو ازم ہیں ان میں یا تو خدا کا تصور نہیں یا اللہ تعالی کی طرف سے جزا ملنے کا تصور نہیں کیپیٹیلسٹ اقوام اگر چه زبانی طور پر اپنے ایک خود تراشیدہ معبود کو مانتی ہیں لیکن وہ یہ دعوی نہیں کرتیں کہ اگر ہم نے اقتصادی مساوات قائم کی تو اس کے بدلہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا اپنے محبوب کی طرف سے اجر ملے گا لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے نتیجہ میں سب سے بڑا فائدہ تمہیں یہ ہو گا کہ اس دنیا میں بھی تمہیں ایک جنت مل جائے گی اور اُخروی دنیا کے جنت کے بھی تم وارث بنو گے ( فَلَةٌ أَجُرُهُ عِندَ رَبِّهِ ) پھر جو جنت اس دنیا میں ملے گی اس میں دو خصوصیتیں ہوں گی ایک تو خوف نہیں ہوگا دوسرے حزن نہیں ہوگا۔جب ہر شخص دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینے کے لئے تیار ہوگا تو کسی کو یہ ڈر تو نہیں ہوگا کہ میرا حق مارا گیا ہے یا مارا جا سکتا ہے خوف کا تو سوال ہی نہیں رہتا ہر شخص اس کوشش میں ہوگا کہ وہ اپنے بھائی کو اس کے ان حقوق سے کچھ زیادہ دے جو اسلام نے مقرر کئے ہیں اور جب ہر شخص کو اس کے حق سے بھی زیادہ مل جائے گا تو غم کس بات کا ؟ خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۷ ۵۴ تا ۵۵۱) و الہی سلسلوں کے دو امتیازی نشان ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ الہی سلسلوں میں داخل ہونے والا اور اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت کا فرد عبد مسلم ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ عبد محسن ہوتا ہے۔میں نے جو آیت ابھی تلاوت کی ہے اس میں ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے۔اسلام نام ہے اس بات کا کہ انسان کا اپنا کوئی ارادہ باقی نہ رہے اور اس پر ایک موت وارد ہو جائے۔انسان اپنی تمام خواہشات کے ساتھ اور اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اپنے رب کے پاؤں پر گر جائے اور اس سے یہ کہے کہ اے میرے پیدا کرنے والے محبوب! جو کچھ مجھے ملا وہ تیرے فضل سے ملا۔جو کچھ مجھے مل رہا ہے وہ تیرے فضل سے مل رہا ہے اور جو کچھ مجھے ملے گا وہ بھی تیرے فضل سے ہی ملے گا کیونکہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔میری آنکھ صرف اس وقت دیکھ سکتی ہے جب تیرا فضل اسے کہے کہ وہ دیکھے۔میری زبان صرف اس وقت بول یا چکھ سکتی ہے، جب زبان پر تیرا حکم نازل ہو کہ وہ بولے اور لذت