انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 141
۱۴۱ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث وحدت باری میں گم اور فنا ہیں وہ خشک جھگڑوں میں کبھی نہیں پڑتے وہ سخت گوئی اور بدزبانی کو بھی اپنا شیوہ نہیں بناتے وہ دوسروں پر وحشیانہ حملے نہیں کیا کرتے ان کو تو ہر وقت اپنی فکر رہتی ہے وہ اپنے نفسوں کی اصلاح میں لگے رہتے ہیں ان کا دل ہر وقت دھڑکتا رہتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے کہ جس کے نتیجہ میں وہ اپنے محبوب حقیقی سے سچا تعلق پیدا کرنے میں نا کام ہو جائیں اور اس کے غضب کو مول لے لیں۔غرض حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں باہمی محبت اور پیار اور انکساری اور عاجزی کی فضا پیدا ہوتی ہے اور انسان ایک دوسرے کو کھانے کو نہیں دوڑتا۔زبانیں تیز نہیں کی جاتیں بلکہ دعائیں دی جاتی ہیں کیونکہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔تیرا ارجو حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ پر پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص کسی کے عقائد اور خیالات اور نظریات کا مخالف ہو وہ اپنے مخالف کی جان اور مال اور عزت کو تباہ کرنے کے پیچھے نہیں پڑتا، اس کا دشمن نہیں بن جاتا اور اسے نابود کرنے کی کوشش نہیں کرتا ، وہ تشدد کا نعرہ نہیں لگاتا اور نہ ظالمانہ راہوں کو اختیار کرتا ہے بلکہ انصاف اور خدا ترسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھتا ہے وہ پیار اور محبت سے اپنے نظریات کو قائم کرنا چاہتا ہے اور پیار اور محبت کے ساتھ اپنے حقوق کو لینا چاہتا ہے کیونکہ جو شخص غیر کی جان یا اس کے مال یا اس کی عزت کا دشمن ہوا اس کے دل میں ایک بت ہے وہ خدائے واحد و یگانہ کی پرستش نہیں کر رہاوہ خدا میں ہو کر اپنے حقوق کے حصول کی کوشش نہیں کر رہاوہ اپنے نفس کو اتنا مضبوط اور طاقت ور سمجھتا ہے کہ کہتا ہے کہ جس بات کو میں صحیح سمجھتا ہوں وہ ہونی چاہیے نہیں تو میں دوسرے کی گردن کاٹ دوں گا لیکن وہ شخص جو بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کی ہدایت کا قائل ہو اور اس پر عمل پیرا ہو وہ اپنے مخالف کے عقائد اور اس کے نظریات کو سن کر اس سے دشمنی کی بجائے محبت کا سلوک کرتا ہے اور اس کو کاٹنے کی بجائے اس کی مد کو آتا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکنے سے اس کی مدد کر۔(صحیح البخاری کتاب المظلوم باب آین اتحاك طالعا أو مظلوما ( پھر دشمنی کہاں رہی پھر تو محبت قائم ہوگئی۔غرض یہ تین موٹے اثر ہیں جو حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں حقوق العباد، باہمی تعلقات اور نظام حیات پر پڑتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم صحیح معنی میں مسلم بن جاؤ اور اپنے پر ایک موت وارد کر کے اپنی ساری خوشیوں کو خدا کی خوشی اور رضا پر قربان کر دو تو اس کے دو نتیجے نکلیں گے، ایک تو