انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 132 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 132

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۳۲ سورة البقرة خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر مانگتا ہے اور ایک دعاوہ ہے جو انسان خدا سے مانگتا ہے کہ اے خدا تو ہماری دعاؤں کو قبول کر کیونکہ محض دعا سے ہمیں تسلی نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ قبول نہ ہو۔اسی لئے اس آیت میں صلوۃ کے لفظ کو دوبارہ لایا گیا ہے کیونکہ عام نماز تو صبر کے لفظ کے اندر آ جاتی ہے۔یہاں وہی مضمون نسبتاً وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے جو سورہ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَستَعِينُ میں بیان ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی بڑی لطیف تشریح کی ہے کہ ايَّاكَ نَعْبُدُ ( ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں ) کا مطلب یہ ہے کہ تو نے ہمیں جو بھی قو تیں اور طاقتیں عطا کی ہیں ہم ان سب کو خرچ کرتے ہوئے تیری عبادت کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص عمل نہ کرے اور صرف دعا کرے تو وہ شوخی دکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ میں نے جو تمہیں دیا تھا۔اس سے تو تو نے فائدہ نہیں اُٹھا یا پھر تو مجھ سے اور کیوں مانگ رہا ہے۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کو صبر کا مہینہ کہا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے کہ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصلوۃ رمضان کی عبادتوں کو توجہ ، ہمت اور عزم سے ادا کرو اور اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ ادا کرو۔عاجزی، فروتنی اور انکسار کے ساتھ ادا کرو۔دوسروں پر صرف عدل اور انصاف ہی کا ہاتھ نہ رکھتے ہوئے بلکہ ان کے سروں پر جود اور سخا کا ہاتھ رکھتے ہوئے اور اپنے نفس کو بُرائیوں سے بچاتے ہوئے ان عبادات کو ادا کرو اور اپنے نفس کو شریعت کے احکام کا اس طرح پابند کرتے ہوئے ادا کرو کہ پھر احکام شریعت اور نفس انسانی میں دُوری پیدا نہ ہو سکے۔پھر اللہ تعالیٰ سے یہ بھی کہو کہ اے خدا تو نے مجھے جو کچھ دیا تھا میں نے اس سے کام لیا ہے اور اتنا کام لیا ہے جتنی میری طاقت تھی۔لیکن اے میرے رب تو نے ہمیں مزید رفعتوں کے حصول کی استعداد عطا کی ہے۔ان مزید رفعتوں کے حصول کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ ہمیں عطا کر۔ہم تیرے ناشکرے بندے ثابت نہیں ہوئے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اپنی طاقت سے آئندہ بھی نا شکر گزار بندے نہیں بنیں گے۔اس لئے تیرے حضور ہماری یہ التجا بھی ہے کہ تو ہمیں ہمیشہ اپنے ہاتھ کا سہارا دے تو ہمیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھتا کہ ہم ہمیشہ ہی تیرے شکر گزار بندے بنے رہیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۹۶۷ تا ۹۷۱)