انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 131
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۳۱ سورة البقرة صبر جن عبادات کی طرف اشارہ کر رہا ہے (میں نے بتایا ہے کہ یہ لفظ اصولی طور پر تمام ذمہ داریوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ) وہ یہ ہیں۔ا۔دنیا کو خدا کے لئے چھوڑنا۔۲۔خدا کے لئے آفات نفس سے بچنا۔۳۔اللہ کی رضا کے لئے دوسروں سے عدل و انصاف سے بڑھ کر جو دوسخا کا معاملہ کرنا۔۴۔اپنے محبوب کی محبت کی تڑپ کی وجہ سے راتوں کی نیند بھول جانا اور اس کا احساس بھی نہ رکھنا۔ہر وقت اور راتوں کو اُٹھ کر بھی اللہ کے حضور جھکنا اس سے پیار کا اظہار کرنا اور اس کے پیار کو طلب کرنا۔۵۔آفات نفس سے بچنا۔یہ پانچوں چیزیں اس جگہ صبر کے لفظ کے اندر آ جاتی ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ماہ رمضان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شَهْرُ الصَّبْرِ ( یعنی صبر کا مہینہ ) بھی کہا ہے اور صبر کے معنی ہیں استقلال کے ساتھ ان باتوں پر کار بند رہنا اور بندھے رہنا ( جیسے ایک آدمی دو چیزوں کو باہم باندھ دیتا ہے اور پھر وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتیں) اسی طرح صبر کے معنی میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ انسان خود کو ان چیزوں سے جن کا ہماری عقل تقاضا کرتی ہے یا جن کا ہماری شریعت ( قرآن کریم ) تقاضا کرتی ہے اس طرح باندھ لے کہ پھر جُدائی کا امکان ہی باقی نہ رہے اور اس معنی کے لحاظ سے صبر کے اندر تمام ذمہ داریاں اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ثبات قدم کا حصول اور ان کو پوری ہمت اور عزم کے ساتھ ادا کرنا سب چیزیں آجاتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم رب العالمین کی مدد چاہتے ہو تو تمہیں آج تک رب العالمین نے جو کچھ دیا ہے وہ اس کی راہ میں خرچ کرو۔صلوٰۃ کا لفظ جو یہاں نمایاں کر کے دیا گیا ہے اس سے مراد عام عبادت یعنی نماز نہیں۔ایک دعا تو وہ ہے جو تدبیر اور دعا کو بریکٹ کرنے کی کیفیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔یعنی دعا کرتے وقت انسان خدا کی حمد بیان کرتا ہے اس کی قدوسیت بیان کرتا ہے اور اس کی تمام صفات کو اپنے ذہن میں حاضر رکھتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اے خدا ہم کمزور ہیں ہم حتی الوسع طاقت خرچ کر رہے ہیں۔ہم خلوص رکھتے ہیں اور نیک نیت بھی ہیں۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ہماری نیتیں نیک ہیں اور ہمارا خلوص واقعہ میں خلوص ہے اور ہماری جو کوشش ہے واقعہ میں مقبول ہونے والی ہے تو ہماری کوششوں کو قبول کر۔اس آیت میں صلوۃ کے لفظ کو جو علیحدہ کیا گیا ہے یہ میرے نزدیک یہ بتانے کے لئے ہے کہ یہ دعا بھی ہونی چاہیے کہ اے خدا تو ہماری دعا قبول کر۔پس دعا ئیں دو قسم کی ہیں ایک دعا وہ ہے جو انسان تسبیح اور تحمید کے ساتھ