انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 130
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البقرة ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور عجز ، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔“ اور پھر آپ دوسری جگہ فرماتے ہیں وو دل پگھل جائے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے ( یہ ہے صلوۃ) تو جو معنی صلوٰۃ میں صلوٰۃ کے لفظ میں ، موٹے تو ہر ذہن میں آتے ہیں دعا کرنا یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ایک خاص دعا ہے، یہ آتے ہیں لیکن اس کے معنی میں عجز اور انکساری بھی شامل ہے وہ جو چھپا ہوا حصہ تھا اس معنی کا اس آیت نے اسے کھول کر بیان کر دیا إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلا عَلَى الخشعِينَ کہ جب تک عجز وانکسار کی راہوں کو اختیار نہ کیا جائے تم وہ حقیقی دعا جسے ہم صلوۃ کہہ سکتے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے مانگ نہیں سکتے۔خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۹۳ تا ۱۹۷) آیت ۴۷ الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَجِعُونَ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (ماہ رمضان ) کو صبر کا مہینہ بھی کہا ہے اور جو آیت ابھی میں نے تلاوت کی ہے یعنی وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے۔اس کا ایک بطن میرے نزدیک یہ بھی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صبر کے ذریعہ یعنی رمضان کی ذمہ داریاں نبھا ہنے ، عبادات بجالانے اور دعا کے ساتھ مجھ سے مدد مانگو وہ دعا جو عبادت ہے وہ تو صبر کے اندر آجاتی ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا ہے۔یہ ماہ صبر یاماہ رمضان پانچ عبادات پر مشتمل ہے۔ان عبادات میں دعا بھی شامل ہے۔رات کے نوافل بھی شامل ہیں لیکن اس ماہ کی دعا یعنی ماہ رمضان کی دعا جو نوافل ہیں اور جو عبادات کے طور پر ہیں اس کے علاوہ ایک اور دعا کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔نماز جو عبادت ہے وہ تو صبر کے اندر آتی ہے لیکن یہاں الصلوۃ کے لفظ سے اس معنی میں جو میں کر رہا ہوں ایک خاص دعا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ اگر تمہیں مجھ سے استعانت حاصل کرنے ، مجھ سے مدد حاصل کرنے اور استمداد کی خواہش ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ جتنی طاقت اور قوت اب تک تمہیں مل چکی ہے اور عطا ہو چکی ہے اسے تم میری راہ میں خرچ کرو یعنی اپنی تد بیر کو اپنی انتہاء تک پہنچاؤ۔