انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 119
١١٩ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ میری نگاہ میں اور میری صفات سے متصف میرے بندوں کی نگاہ میں بھی بیوقوف تم ہی ہو خواہ تم کتنے ہی عقلمند کیوں نہ بنتے پھرو۔پس منافقین کی یہ بنیادی علامات ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی اشارہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنی منافقت کو عقلمندی سمجھتے ہیں خدائے رحمن کو بھی اپنا سردار سمجھتے ہیں اور شیطان کو بھی اپنا سردار سمجھتے ہیں اور جو خدا کا بندہ خدا کی صفت رحمانیت کا مظہر ہے وہ بھی ظلی طور پر رحمن ہے ہر انسان اپنے محدود دائرہ میں ظلی طور پر اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات کو منعکس کر کے رب بھی ہے رحمن بھی ہے رحیم بھی ہے اور مالک بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ ہماری جماعت پر یہ فرض لازم ہے کہ دوست ان صفات باری تعالیٰ کو ظلی طور پر اپنے اندر بھی پیدا کریں۔پس ایک ایسا شخص جو رحمن اور شیطان میں فرق نہیں کر سکتا وہ بھلا عقلمند کیسے ہوسکتا ہے؟ منافق بے شک اپنے آپ کو عظمند سمجھتے پھریں اللہ تعالیٰ کا ان کے متعلق فیصلہ یہ ہے کہ وہ پرلے درجے کے سفیہ بڑے ہی بیوقوف اور سخت احمق ہیں کیونکہ یہ تو رحمن اور شیطان میں بھی فرق نہیں کر سکتے۔یہ ان کی بیوقوفی اور حماقت کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے اس دورنگی کو عقلمند کون کہہ سکتا ہے کہ جب اپنے شیطان سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں لیکن مومنوں کے پاس آکر اسی زبان سے مومنانہ جذبات کا اظہار بھی کر رہے ہوتے ہیں اور بڑی چرب زبانی سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص خدائے رحمن اور شیطان ملعون میں فرق نہ کر سکے وہ سفیبہ یعنی پرلے درجے کا بیوقوف نہیں تو اور کیا ہے لیکن اپنی سفاہت کا احساس نہ رکھنے کی وجہ سے یا محض شرارت کی نیت سے عقلمند کے روپ میں تمہارے سامنے آئیں گے۔بظاہر بڑے عقلمند بڑے مصلح نہایت ہمدرد اور پکے مومن۔لیکن در پردہ منافق ہوں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے جماعت مومنہ ! میں تم پر یہ اعتماد کر رہا ہوں اور تمہارے سامنے ان کی علامات کو کھول کھول کر اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ تم بھی ہمیشہ ایسے گروہ سے چوکس اور بیدار رہو جس طرح یہ لوگ مجھے بیوقوف نہیں بنا سکے اسی طرح یہ تمہیں بھی بیوقوف نہیں بنا سکتے۔(بِقُدْرَتِهِ الْكَامِلَةِ ) پس اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہر سہ جماعتوں کے متعلق ان کی خصوصیات، کیفیات اور علامات