انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 115
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۱۵ سورة البقرة دماغ اور روح میں کچھ روحانی کمزوری ہوتی ہے۔جن کو اللہ تعالیٰ نے منافق نہیں قرار دیا بلکہ فرمایا ہے کہ یہ کمزوری ایمان رکھنے والے ہیں دل کی ساری امراض کو نفاق نہیں کہا اگر چہ یہ امراض نفاق کا حصہ ضرور ہیں لیکن ان کو کلیہ نفاق بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر کسی کے دل میں ایک فیصدی نفاق ہے تو وہ منافق نہ ہوا مگر اس کی حالت خطرہ سے باہر بھی نہیں ہوتی ایسے شخص کی اصلاح اور تربیت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔پس منافق مصلح کے لباس میں دوست اور ہمدرد کی حیثیت سے لوگوں کے پاس جاتے اور ان کے ایمان کے اندر رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ رخنہ ابتداء میں سوئی کے ناکے کے برابر ہوتا ہے بظاہر بالکل معمولی سا نظر آتا ہے لیکن اندر سے گند کا ایک لوتھڑا بن جاتا ہے مثلاً آج کل سیب کا پھل عام ہے آپ نے دیکھا ہو گا بعض کیڑے سیب پر حملہ آور ہوتے ہیں آپ ایک سیب اُٹھا ئیں اس پر سوئی کے ناکے کے برابر داغ نظر آئے گا اور جب اسے کھولیں گے تو دیکھیں گے کہ اندر موٹی موٹی سونڈیاں پھر رہی ہوں گی حالانکہ اس سیب پر بظاہر شوئی کے ناکے سے زیادہ سوراخ نظر نہیں آئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ منافق ایک مصلح کے روپ میں تمہارے سامنے آئے گا جب کبھی وہ تمہارے سامنے اس روپ میں آئے تو ہم تمہیں ایک جواب سکھاتے ہیں وہ جو اب تم اس کو دے دیا کرو تم اس سے کہہ دیا کرو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ تم اصلاح کا جو بھی جامہ پہنو ہم تمہیں پہچانتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ آواز ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے کہ تم ہی مفسد ہو تمہارا مصلح کے روپ میں ہمارے سامنے آنا ہمیں دھوکا نہیں دے سکتا۔منافق کی چوتھی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ منافق لوگ اپنے آپ کو بڑا عقل مند اور ہوشیار سمجھتے ہیں اور اپنے نفاق کو اپنی ہوشیاری کا نتیجہ سمجھتے ہیں حالانکہ ان کی یہ حالت اول درجے کی حماقت کے مترادف ہوتی ہے لیکن یہ بات ان کے دماغ میں آتی ہی نہیں ان کا مرض لاعلاج ہو چکا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ان سے کہا جائے کہ آخر یہ سارے مسلمان جو ہیں ان کے دلوں میں ایمان اور بے نفسی پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کے لئے خلوص اور ایثار پایا جاتا ہے جس طرح اُنہوں نے اپنی تمام خواہشات اور اپنی بزرگیوں اور بڑائیوں کو اللہ تعالیٰ کی عزت اور عظمت پر قربان کر دیا ہے تم کیوں