انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 113 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 113

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۱۳ سورة البقرة ہے اسی کے مطابق اس سے اس کا سلوک بھی ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرض گھٹتا نہیں بلکہ فطرتی تقاضوں کی غلط روش سے ان کا مرض بڑھتا ہی چلا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم نے امراض قلوب پر متعدد جگہ روشنی ڈالی ہے۔دل کی ایک مرض نہیں ہوتی بلکہ متعدد امراض ہیں جس طرح جسم کی بھی ایک مرض نہیں انسان مختلف قسم کی غلطیاں کرتا رہتا ہے۔صبح ایک قسم کی غلطی کر بیٹھتا ہے اور شام کو دوسری قسم کی غلطی کا مرتکب بن جاتا ہے ہر مرض کا تعلق انسان کے کسی نہ کسی غلط اقدام سے ہے انسان کی کسی نہ کسی غلط روش کے نتیجہ میں مرض لاحق ہوتی ہے اور ان آیات میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔بہر حال منافق کی دوسری علامت یہ بتائی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کو تو دھوکا دینا چاہتا ہے مگر اس کا اپنا یہ حال ہے کہ ہر قسم کی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہے۔منافقت نے اس کے درخت وجود کو پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے اس کا جسم ایک آتشک زدہ کے جسم کے مشابہ ہے۔جس طرح آتشک وغیرہ کے مریض کے اعضاء گلنے سڑنے لگ جاتے ہیں اس صورت میں وہ انسانی جسم کہلانے کا مستحق نہیں رہتا بلکہ عفونت اور گندگی کے ایک لوتھڑے کا مصداق بن جاتا ہے اسی طرح منافق بھی روحانی طور پر گندگی اور نا پاکیزگی اور عدم طہارت کی وجہ سے ایک لوتھڑا ہی ہوتا ہے وہ حقیقی معنوں میں انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا حالانکہ وہ انسان کے زمرہ میں شامل ہے اور انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے لا محد و دروحانی ترقیات کے لئے پیدا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کی تیسری بیماری یا کمزوری یہ بتائی ہے کہ یہ اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں یعنی یا تو اپنی جہالت کے نتیجہ میں خود ہی مصلح بنے پھرتے ہیں اور یا پھر شرارت کی نیت سے ایک مصلح کا روپ دھار لیتے ہیں۔بہر حال وہ ایک مصلح کے لباس میں اُمت مسلمہ میں گھسے رہتے ہیں اور اسے اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دینے کے لئے منافقانہ کارروائیوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔چنانچہ ہماری تاریخ میں اس قسم کی منافقانہ سرگرمیوں کی ایک نہیں دو نہیں بلکہ بیسیوں مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بعض یہودی مسلمان علماء کی شکل میں مسلم معاشرہ کے جزو بن کر تباہی و بربادی پھیلاتے رہے۔سپین میں مسلمانوں کی صدیوں تک حکومت رہی اور ایک وقت تک ان کے رعب اور ان کے علم وفضل اور ان کے اخلاق فاضلہ نے سارے یورپ پر اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔بڑے بڑے مشہور پادریوں نے