انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 107

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث 1+2 سورة البقرة نے کہا کہ میرے اوپر احسان کیا اور یہ کہنے کے بعد احسان کیا کہ میں تمہارے لئے محسنِ اعظم ہوں آپ نے جو کہا وہ ہماری زندگیوں میں پورا ہوا۔جو آئندہ کے متعلق کہا گیا ہے وہ پورا ہوگا۔اسی طرح اور بیبیوں پہلو پیش کئے جاسکتے ہیں جو قرآئن کا حکم رکھتے ہیں جن کے نتیجہ میں ترجیح اس بات کو دی گئی کہ ہم یقین کی طرف مائل ہو جا ئیں اور ایمان لے آئیں۔قرآن کریم نے اسی تسلسل میں یہ دعوی کیا کہ میں اب ہمیشہ کے لئے نوع انسانی کے ہر قسم کے مسائل کو حل کروں گا اور ان کی روحانی ضروریات کو اور ان کی دنیاوی ضروریات کے بنیادی مسائل کو حل کروں گا اور قرآنِ کریم نے ایک بڑا قوی قرینہ جو قائم کیا وہ یہ ہے کہ قرآن کو ہمیشہ مطہر بندے سمجھ سکیں گے۔لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة) :۸۰) میں جہاں اس بات کا ذکر ہے کہ مظہرین پر نئے سے نئے اسرار قرآنی کھولے جاتے ہیں وہاں یہ بھی تو ذکر ہو گیا نا! کہ قرآن کریم میں اسرار ورموز چھپے ہوئے ہیں ورنہ مطہر کہنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔اگر ہر چیز قرآن کریم کی پہلی صدیوں میں ظاہر ہوگئی تو پھر نہ قرآن کریم پر ایمان بالغیب کی ضرورت ہے نہ آئندہ کسی مطہر کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کریم کے علوم میں کوئی اسرار ورموز اور بنیادی حقیقتیں جو آئندہ زمانہ سے تعلق رکھتی تھیں وہ باقی نہیں رہیں تو قرآن کریم پر ایمان ایمان بالغیب سے بھی تعلق رکھتا یعنی کتاب مبین کے ساتھ ساتھ ایک بڑا حصہ ایمان بالغیب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی کتاب مکنون پر ایمان۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۱۷۰ تا ۱۷۳) میرے دل میں یہ خواہش شدت سے پیدا کی گئی ہے کہ قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیتیں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ہر احمدی کو یاد ہونی چاہئیں اور ان کے معانی بھی آنے چاہئیں اور جس حد تک ممکن ہو ان کی تفسیر بھی آنی چاہیے اور پھر ہمیشہ دماغ میں وہ مستحضر بھی رہنی چاہیے۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ستر اسی صفحات کا ایک رسالہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تفاسیر کے متعلقہ اقتباسات پر مشتمل ہوگا شائع بھی کر دیں گے۔مجھے آپ کی سعادت مندی اور جذبۂ اخلاص اور اس رحمت کو دیکھ کر جو ہر آن اللہ تعالیٰ آپ پر نازل کر رہا ہے امید ہے کہ آپ میری روح کی گہرائی سے پیدا ہونے والے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے ان آیات کو زبانی یاد کرنے کا اہتمام کریں گے۔مرد بھی یاد